قومی

Queen of Fruits ‘Noorjahan’ Mango: دنیا کا سب سے بڑا آم ’نور جہاں‘: ایک آم کی قیمت 3000 روپے تک، بازار میں آنے سے پہلے ہی امیروں نے ایڈوانس کرا لی بکنگ

کیا آپ نے کبھی 3000 روپے میں ایک آم خریدا ہے؟ یہ بات حیران کن ضرور لگتی ہے، کیونکہ ملک کے کئی حصوں میں بہترین آم بھی 60 سے 100 روپے فی کلو تک مل جاتے ہیں۔ لیکن مدھیہ پردیش کے علی راجپور ضلع کے کٹھیواڑا علاقے میں پیدا ہونے والے ایک خاص آم کی ان دنوں زبردست مانگ دیکھی جا رہی ہے۔ اس آم کا نام ’نور جہاں‘ ہے، جسے دنیا کا سب سے بڑا آم مانا جاتا ہے۔یہ آم جولائی کے مہینے تک پوری طرح پک کر بازار میں آتا ہے، لیکن اس کے شوقین افراد نے مئی سے ہی اس کی ایڈوانس بکنگ شروع کر دی ہے۔ گجرات، دہلی، ممبئی سمیت ملک اور بیرونِ ملک کے امیر اور رئیس خاندانوں میں اس آم کو لے کر غیر معمولی کریز دیکھنے کو مل رہا ہے۔

قیمت نے توڑ دیے تمام ریکارڈ

خاص بات یہ ہے کہ اس سال نور جہاں آم کی قیمتوں نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ چند سال پہلے تک جو آم 500 سے 700 روپے میں فروخت ہوتا تھا، وہ گزشتہ سال 1200 سے 1500 روپے تک بکا۔ اس بار موسم کی بے اعتدالی اور انتہائی محدود پیداوار کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھ کر 1500 سے 3000 روپے فی آم تک پہنچ گئی ہے۔کاشتکاروں کے مطابق اس نسل کے درخت اب بہت کم رہ گئے ہیں اور ایک درخت پر صرف 20 سے 30 پھل ہی لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ درختوں پر لگے کچے آموں کی بھی بھاری رقم ادا کرکے پہلے سے بکنگ کرا رہے ہیں۔

علی راجپور میں ہوتی ہے اس خاص آم کی کاشت

مدھیہ پردیش کے علی راجپور سے متصل ریاست گجرات میں اس آم کی سب سے زیادہ مانگ رہتی ہے۔ وڈودرا، سورت اور احمد آباد کے تاجر اور پھلوں کے شوقین ہر سال کٹھیواڑا کے باغات کا دورہ کرتے ہیں۔مدھیہ پردیش حکومت کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق نور جہاں آم اپنی منفرد خوشبو، بے مثال مٹھاس اور غیر معمولی جسامت کی وجہ سے عالمی سطح پر ریاست کی پہچان بن چکا ہے اور یہ وہاں کے کسانوں کے لیے انتہائی منافع بخش فصل ثابت ہو رہا ہے۔

افغانستان سے بھارت پہنچی یہ نایاب قسم

مورخین کے مطابق آم کی اس نایاب قسم کا تعلق افغانستان سے مانا جاتا ہے۔ تقریباً 55 سے 60 سال قبل اسے گجرات کے راستے مدھیہ پردیش کے علی راجپور کے جونا کٹھیواڑا گاؤں لایا گیا تھا۔ٹھاکر رنویر سنگھ جادھو نے سب سے پہلے اس پودے کو اپنے کھیت میں لگایا اور گرافٹنگ (قلم کاری) تکنیک کے ذریعے اسے فروغ دیا۔ آج ان کے بیٹے شیوراج سنگھ جادھو اس وراثت کو سنبھال رہے ہیں۔

اس درخت کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت اونچا نہیں ہوتا اور اس کی اونچائی تقریباً 12 فٹ تک رہتی ہے۔ جب اس پر بڑے اور بھاری پھل لگتے ہیں تو شاخوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے نیچے لکڑی کا سہارا دینا پڑتا ہے۔

ایک آم پورے خاندان کے لیے کافی

اس آم کو ’کنگ آف مینگو‘ اور ’لگژری مینگو‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے بڑے سائز کی وجہ سے ایک ہی آم پورے خاندان کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا بہت پتلا، گودا انتہائی رسیلا اور بغیر ریشوں کے ہوتا ہے، جبکہ اس کا ذائقہ ہلکی زعفرانی خوشبو کے ساتھ بے حد لذیذ محسوس ہوتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

1 hour ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

2 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

3 hours ago