یوپی کے فتح پورمیں پیرکے روزفرقہ وارانہ ماحول خراب ہوگیا۔ نواب عبدالصمد مقبرہ احاطے میں ہندوتنظیموں نے توڑپھوڑکی۔ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ یہاں مندرکوتوڑکرمسجد بنائی گئی ہے۔ ہزاروں سال پہلے بھگوان شیواورکرشن کا مندرتھا۔ ہنگامے کے بعد پولیس نے مقبرہ کے پاس بیریکیڈنگ کردی تھی، لیکن بھیڑاسے توڑکرآگے بڑھ گئی۔ لوگ یہاں مقبرے میں پوجا کرنے کے لئے جمع ہیں۔ اس دوران لوگوں نے انتظامیہ انہیں روکنے کی جدوجہد کررہی تھی۔ یہاں تک کہ موقع پرڈی ایم اورپولیس کے اعلیٰ افسران بھی پہنچ چکے ہیں۔
ہندو تنظیم نے کیا مندرہونے کا دعویٰ
ہندوتنظیموں نے مقبرے کو پہلے مندرہونے کا دعوی کیا ہے۔ ہندوتنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مقبرے میں کمل کا پھول اورتریشول کے نشان ہیں۔ یہ مندر ہونے کے ثبوت ہیں۔ مزارمیں توڑپھوڑسے علاقے میں ماحول کشیدہ ہوگئے ہیں۔
کیا ہے پورا تنازعہ؟
مقبرے کو بی جے پی ضلع صدر نے مندربتایا۔ اسی دعوے کے بعد سے فتح پور میں تنازعہ شروع ہوگیا۔ ضلع صدر نے اس مقبرے کو ایک ہزار سال پرانا ٹھاکرجی اورشیوجی کا مندربتایا تھا۔ الزام لگایا کہ مندرتوڑکر یہاں مقبرہ بنایا گیا ہے۔ پیرکے روزمقبرے کے باہربڑی تعداد میں ہندوتنظیم کے لوگ پہنچے تھے۔ مزاراورمقبرہ کوجب ہندوتنظیموں سے وابستہ افراد نے نقصان پہنچا دیا، تب پولیس نے تھوڑی سختی کی، جس کے بعد دونوں میں جھڑپ ہوگئی۔ بعد میں مسلم طبقے کے لوگ بھی موقع پر جمع ہوئے اورانہوں نے پتھراؤ بھی کیا۔
فتح پور میں ماحول خراب ہوگیا
فتح پور میں اس وقت مقبرہ تنازعہ سے متعلق ماحول گرما گیا ہے۔ ڈاک بنگلہ چوراہے کے پاس ہزاروں کی بھیڑ جمع ہوگئی ہے۔ ہندو تنظیم مقبرہ کو ٹھاکرجی کا مندر بتا رہا ہے۔ ہندو تنظیم کے لوگ پوجا-پاٹھ (عبادت) کرنے کی ضد کررہے ہیں۔ انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ پولیس افسران نے موقع پر پہنچ کرلوگوں سے بات چیت کی۔ احتیاطاً پورے شہر میں پولیس-پی اے سی کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ ہرگلی اور چوراہے پر سیکورٹی اہلکاروں کی نگرانی ہے۔ صدرکوتوالی کے ابونگرکا پورا معاملہ ہے۔
دہلی-این سی آر میں آج آسمان پر ہلکے بادل چھائے رہنے اور دن میں دھوپ…
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق جمعہ کی رات تقریباً 9:30 بجے آگ لگنے کی اطلاع…
موسمی ماہرین کے مطابق سمندری طوفان ارناب اور مغربی ہواؤں کے دباؤ کے مشترکہ اثر…
یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…
بی جے پی اس مارچ کو کانگریس کی ریلی کے جواب میں منعقد کر رہی…
امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…