ہماچل پردیش میں مون سون کی شدید بارش نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ 43 دنوں کے دوران بارش سے متعلق آفات میں 70 افراد کی جان گئی ہے، جبکہ ریاست بھر میں 204 سڑکیں اب بھی بند ہیں۔ اس دوران سرکاری و عوامی املاک کو ہونے والا مجموعی نقصان 910 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (SEOC) کے 30 جون سے 11 اگست تک کے تازہ اعداد و شمار سے ریاست میں مون سون کی تباہ کاریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مسلسل موسلا دھار بارش، لینڈ سلائیڈنگ، بادل پھٹنے اور موسم سے متعلق دیگر واقعات کے باعث سڑکوں، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، پانی کی فراہمی کے نظام اور نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ریاست میں اس وقت 204 سڑکیں بند ہیں، جن میں دو قومی شاہراہیں NH-154 اور NH-21 بھی شامل ہیں۔ منڈی سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں 80 سڑکیں بند ہیں۔ منڈی-کلو کا اہم راستہ بھی جالوگی-دوادا کے قریب متاثر ہوا ہے۔ کلو میں 56 جبکہ سرمور میں 23 سڑکیں بند ہیں۔
سڑکوں کی مسلسل بندش سے اضلاع کے درمیان رابطہ متاثر ہوا ہے اور ضروری سامان کی ترسیل کے ساتھ ساتھ امدادی اور ہنگامی ٹیموں کی آمدورفت بھی مشکل ہو گئی ہے۔ مون سون نے بجلی اور پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ریاست میں 45 ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر علاقے (DTR) فی الحال کام نہیں کر رہے، جن میں سے 41 سرمور ضلع کے ناہن سب ڈویژن میں ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 82 پانی کی فراہمی کی اسکیمیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ سرمور میں سب سے زیادہ 31 اسکیمیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ہمیرپور میں 11 اور منڈی میں آٹھ اسکیمیں متاثر ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی بحال کرنا حکام کی اولین ترجیح ہے۔SEOC کے مطابق 30 جون سے 11 اگست کے درمیان آفات سے براہ راست جڑی مختلف وجوہات سے 70 افراد ہلاک ہوئے۔ لینڈ سلائیڈنگ میں 14 افراد کی جان گئی، جبکہ کھڑی ڈھلوانوں، چٹانوں یا درختوں سے گرنے کے واقعات میں 23 اموات ہوئیں۔ سانپ کے کاٹنے سے سات، بجلی کا جھٹکا لگنے سے چھ اور بادل پھٹنے کے واقعات میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ لاہول اسپیتی میں آفات سے براہ راست سب سے زیادہ 14 اموات ہوئیں، جبکہ کانگڑا میں 12 افراد جان سے گئے۔
اس کے علاوہ مذکورہ مدت میں سڑک حادثات میں 93 افراد ہلاک ہوئے۔ چمبا میں سب سے زیادہ 16 اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ کلو میں 13، سرمور میں 12 اور شملہ میں 11 افراد سڑک حادثات کا شکار ہوئے۔تازہ سرکاری تخمینے کے مطابق عوامی املاک کو ہونے والا مجموعی نقصان تقریباً 910.35 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) کو ہوا ہے، جس کا تخمینہ 686.36 کروڑ روپے ہے۔ بجلی کے شعبے کو بھی تقریباً 203.89 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔مون سون کی تباہ کاریوں نے ریاست کے تمام 12 اضلاع میں گھروں، دیگر نجی ڈھانچوں، مویشیوں اور فصلوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے متاثرہ خاندانوں پر معاشی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ حکام اور امدادی ٹیمیں سڑکوں سے ملبہ ہٹانے، بجلی و پانی کی فراہمی بحال کرنے اور متاثرہ علاقوں کا رابطہ برقرار رکھنے میں مصروف ہیں۔ تاہم مسلسل بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر موسمی واقعات بحالی کے کام میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔