قومی

Monsoon arrives in Kerala ahead of schedule: کیرالہ میں وقت سے پہلے پہنچا مانسون، 16 برسوں کا ریکارڈ ٹوٹا، دہلی، ممبئی سمیت کئی شہروں میں الرٹ جاری

نئی دہلی: ہندوستان میں مانسون نے مقررہ وقت سے آٹھ دن پہلے ہی کیرالہ میں دستک دے دی ہے۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق یہ گزشتہ 16 برسوں میں مانسون کی سب سے جلد آمد ہے۔ عام طور پر کیرالہ میں مانسون یکم جون کو داخل ہوتا ہے، تاہم اس بار 23 مئی کو بارش کا آغاز ہو گیا۔ اس سے قبل 2009 اور 2001 میں بھی اتنی جلدی مانسون آیا تھا، جبکہ 1918 میں ریکارڈ کے مطابق مانسون نے 11 مئی کو ہی کیرالہ میں قدم رکھا تھا۔

کیرالہ کے مختلف اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ جاری

دوسری جانب، مانسون کی آمد میں سب سے زیادہ تاخیر 1972 میں ہوئی تھی جب 18 جون کو بارش کا آغاز ہوا۔ گزشتہ 25 برسوں میں سب سے دیر سے مانسون 2016 میں 9 جون کو آیا تھا۔ محکمہ موسمیات نے کیرالہ کے کئی اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جہاں اگلے 24 گھنٹوں میں 20 سینٹی میٹر سے زیادہ بارش متوقع ہے، جبکہ دیگر اضلاع میں اورنج اور یلو الرٹس جاری کیے گئے ہیں۔

ملک کے دوسرے حصوں میں موسم نے بدلا مزاج

ملک کے دیگر حصوں میں بھی موسم کی کروٹ دکھائی دے رہی ہے۔ دہلی، نوئیڈا، گڑگاؤں اور غازی آباد سمیت شمالی ہند کے کئی علاقوں میں گزشتہ دنوں تیز آندھی اور بارش دیکھی گئی۔ 25 اور 26 مئی کو دہلی میں جزوی طور پر بادل چھائے رہنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ 27 مئی کو بوندا باندی یا بارش ہو سکتی ہے۔

رائے گڑھ اور رتناگیری میں شدید بارش کا امکان

محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی کونکن، گوا اور عرب سمندر کے مشرقی وسطی علاقے میں کم دباؤ کا نظام بنا ہوا ہے، جس کے باعث کونکن کے کئی علاقوں میں اگلے تین دن کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ رائے گڑھ اور رتناگیری میں شدید بارش کا امکان ہے، جبکہ ممبئی، تھانے، پالگھر، سندھودرگ، پونے اور ستارا میں اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔

مانسون کے آغاز سے دیہی معیشت کو تقویت ملے گی 

مانسون کے وقت پر آغاز سے زراعت، خاص طور پر خریف فصلوں کے لیے امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ دھان، دالیں، تیل والے بیج، کپاس اور سبزیاں وقت پر بوئی جا سکیں گی، جس سے دیہی معیشت کو تقویت ملے گی اور غذائی تحفظ بھی یقینی ہوگا۔ البتہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مانسون کی کامیابی کا دار و مدار اس کی تسلسل اور پورے ملک میں یکساں بارش پر ہے۔

اگر مانسون جولائی کے وسط تک شمالی و وسطی ہندوستان تک برابر انداز میں پہنچتا ہے، تو نہ صرف فصلوں کی پیداوار بڑھے گی بلکہ مہنگائی پر قابو پانے اور معیشت کو سہارا دینے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم، اگر بارش غیر متوازن رہی یا کہیں زیادہ و کہیں کم ہوئی، تو ابتدائی فائدے بے اثر ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

2 minutes ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

23 minutes ago