گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے پارلیمنٹ کے قریب واقع ایک مسجد کا دورہ کیا۔ اب اس پر سیاسی تنازعہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے زبانی حملے، انڈین نیشنل کانگریس کے دفاع اور ایس پی ایم پی ڈمپل یادو کے جاری کردہ بیان کے بعد اب رام پور کے ایم پی اور مسجد کے امام محب اللہ ندوی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ رام پور کے ایم پی نے بی جے پی پر فضول باتوں پر سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ ایس پی ایم پی نے کہا کہ بی جے پی مذہب کی سیاست کرتی ہے۔
ایس پی سربراہ اور دیگر ساتھی ممبران کے مسجد جانے کے واقعہ پر بات کرتے ہوئے ندوی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چل رہی تھی، اس لیے میں نے خود اکھلیش یادو سے کہا کہ وہ چل کر میرے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھیں۔ وہاں کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ندوی نے کہا کہ اکھلیش صرف مسجد دیکھنے گئے تھے۔ وہاں کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔ اس دوران ہم نے انہیں بتایا کہ یہاں کتنے سابق صدور، نائب صدور اورمجاہدین آزادی آئے ہیں۔
بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے ندوی نے کہا کہ وہ لوگ صرف سیاست کرتے ہیں۔ انہیں مذہب کی سیاست کرنی ہے۔ سب میری پارٹی کے ایم پیز ہیں، اگر میں ان کے ساتھ یہاں بیٹھوں تو اس میں جھگڑا کیا ہے؟ مسجد کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ایم پی نے کہا کہ وہاں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔ کچھ لوگ مذاہب کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ منفی بات کرتی ہے۔ انہیں ہر چیز میں سیاست نظر آتی ہے۔ بی جے پی کو شرم آنی چاہیے کہ وہ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں جنہوں نے راتوں رات مسجدیں اور مندر گرائے۔
بھارت ایکسریس۔
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…
قاضی توقیر سے گفتگو کے دوران گلّو نے اپنی زندگی کے اس مشکل دور کو…
۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے…