قومی

Modi Govt. Must Now Be Dismissed Says Rahul Gandhi: ’اب حکومت کو برطرف کرنا ہوگا‘، انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں راہل گاندھی کا بیان، انتخابی نتائج پر اٹھائے سوال

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف انڈیا اتحاد کا احتجاج گزشتہ دو دنوں سے جاری ہے۔ اسی دوران جمعہ کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی موجودگی میں انڈیا اتحاد کی میٹنگ ہوئی، جس میں آنے والے دنوں میں حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی پر غور و خوض کیا گیا۔  میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ اب مرکزی حکومت کو برطرف کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں انتخابی عمل پر اب اعتماد نہیں رہا۔ راہل گاندھی نے ہریانہ اور مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر بھی سوال اٹھائے۔  واضح رہے کہ راہل گاندھی اور اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے 7 اور 8 اکتوبر کو گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے کی کوشش کی تھی، لیکن پولیس نے انہیں راستے میں ہی روک دیا تھا۔ اب انڈیا اتحاد کے لیڈرؤں نے جمعہ کو کل جماعتی میٹنگ کے بعد صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

راہل گاندھی نے کیا کہا؟

میٹنگ میں راہل گاندھی نے کہا، ’’جواہر لعل نہرو نے ایک بہت مشہور تقریر کی تھی۔ یہ تقریر 14 اگست 1947 کو پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں کی گئی تھی۔ میں اس کا کچھ حصہ بتانا چاہتا ہوں۔ یہ ہندوستان، پورے ایشیا اور دنیا کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔ مشرق میں آزادی کا ایک نیا ستارہ طلوع ہو رہا ہے، ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے اور ایک طویل عرصے سے دیکھا جانے والا خواب حقیقت بن رہا ہے۔ یہ ستارہ کبھی غروب نہ ہو اور یہ امید کبھی نہ ٹوٹے۔‘‘ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں جمع ہوئے ہیں۔ وہ ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے کام کاج کے حوالے سے اپنے خدشات ظاہر کرنے کے لیے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے پہنچے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا جوابی حملہ

راہل گاندھی کے بیان کے فوراً بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے لکھا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی مسلسل انتخابات میں کامیابی حاصل کر رہی ہے، جبکہ راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کی جانب سے جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ مغربی بنگال، آسام اور پڈوچیری کے ضمنی انتخابات میں این ڈی اے کی جیت اور حال ہی میں راجستھان اور تریپورہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ عوام نے انڈیا اتحاد کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’عوام کی حمایت کھونے کے بعد یہ جماعتیں ہر شکست کے بعد آئینی اداروں پر سوال اٹھاتی ہیں، لیکن عوام ان کے اصل کردار کو پہچان چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے ایک بار پھر بی جے پی کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اور پارٹی پر اپنے اٹل اعتماد کا اعادہ کیا ہے۔‘‘ امت شاہ نے اس کامیابی کے لیے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما، راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما، تریپورہ کے وزیر اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر مانک ساہا اور پڈوچیری کے وزیر اعلیٰ این رنگاسامی کو دلی مبارک باد دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام ریاستی صدور اور پارٹی کے محنتی کارکنوں کو بھی مبارک باد پیش کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

RBI E Rupee Alternative To UPI: نہ نقد رقم کا جھنجھٹ، نہ ایم ڈی آر کا خوف، کیا ہے آر بی آئی کا متبادل یو پی آئی؟

ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…

2 hours ago

UP Politics 2027: عمران مسعود کی تاج پوشی: مسلم آؤٹ ریچ یا اکھلیش یادو کو براہِ راست پیغام؟

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…

3 hours ago