قومی

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کی اصل وجہ کا پتہ لگائے گی نئی تجربہ گاہ، مودی حکومت کی اہم پہل

ہر سال سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی قومی راجدھانی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں، یعنی این سی آر میں فضائی آلودگی کی سطح تشویش ناک ہو جاتی ہے۔ زہریلی ہوا اور دھند سے پریشان لوگوں کو راحت پہنچانے اور آلودگی کے اصل اسباب کی شناخت کے لیے مرکزی حکومت نے ایک اہم سائنسی قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دہلی-این سی آر میں اپنی نوعیت کی پہلی فضائی آلودگی کے تجزیے سے متعلق جدید تجربہ گاہ کا افتتاح کیا۔ اس جدید سہولت کے ذریعے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ کسی علاقے میں ہوا کے خراب ہونے کی اصل وجہ کیا ہے اور آلودگی میں کن ذرائع کا کتنا حصہ ہے۔

جدید اے اے ٹی ایل تجربہ گاہ کیسے کام کرے گی؟

’انٹیگریٹڈ ایٹموسفیرک کیمسٹری اینڈ ایروسول ٹاکسِسٹی اینالیسس لیبارٹری‘ (اے اے ٹی ایل) کے نام سے قائم یہ تجربہ گاہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم) کی دہلی شاخ میں قائم کی گئی ہے۔ اس کے افتتاح کے موقع پر وزارتِ ارضیاتی علوم کے سکریٹری ڈاکٹر ٹی۔ سرینواس کمار، آئی آئی ٹی ایم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اے۔ سوریہ چندر راؤ اور محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مہاپاترا بھی موجود تھے۔ اس تجربہ گاہ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ سائنس دانوں کو فضائی آلودگی کے مختلف ذرائع کے درمیان فرق کرنے میں مدد دے گی۔ اس کے ذریعے معلوم کیا جا سکے گا کہ ہوا میں موجود آلودگی گاڑیوں کے دھوئیں، کارخانوں سے نکلنے والے اخراج، پرالی جلانے، سڑکوں کی دھول یا تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔ ہوا میں موجود باریک ذرات، خصوصاً پی ایم 2.5، دھاتوں اور زہریلے عناصر کا درست کیمیائی تجزیہ کرکے یہ نظام انتظامیہ کو حقیقی وقت کے اعداد و شمار اور پیشگی پیش گوئی فراہم کرے گا۔ اس سے آلودگی کے ذرائع کی شناخت اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں مدد ملے گی۔

’مشن موسم‘ کے تحت اہم قدم

وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کردہ ’مشن موسم‘ کے تحت تیار کی گئی یہ سہولت فضائی معیار کے انتظام کے لیے سائنسی شواہد فراہم کرے گی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ عوام کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے دہلی-این سی آر کو اس تجربہ گاہ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اب صرف یہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہوگا کہ آلودگی کی سطح کتنی ہے، بلکہ یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ ہوا میں کون سا آلودہ عنصر موجود ہے، اس کی مقدار کتنی ہے اور وہ کہاں سے پیدا ہو رہا ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر حکومت اور مقامی انتظامیہ آلودگی کے اصل ذرائع کو نشانہ بنا کر ضروری اقدامات کر سکیں گے۔ اس طرح جہاں آلودگی کا مسئلہ زیادہ سنگین ہوگا، وہاں ترجیحی بنیاد پر کارروائی کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

BWF French Open: بی ڈبلیو ایف فرانسیسی اوپن، پی وی سندھو نے کٹایا فائنل کا ٹکٹ، سیمی فائنل میں ہینا آکیچی کو دی شکست

دو بار کی اولمپک تمغہ یافتہ پی وی سندھو نے سخت مقابلے میں جاپان کی…

16 minutes ago

MP Naresh Bansal: ’جو ٹھانا، وہ کرکے دکھایا…‘ وزیر داخلہ امت شاہ کے کام کرنے کے انداز پر بولے رکن پارلیمنٹ نریش بنسل

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نریش بنسل نے وزیر داخلہ امت شاہ کی تعریف…

41 minutes ago

Gold-Silver Price: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، تین دن میں چاندی 10,100 روپے سستی

سونے کے دام میں بھی 3,610 روپے کی کمی، تہواروں کے موسم میں خریداری کا…

50 minutes ago

ODI Series: ون ڈے سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کے ارادے سے اترے گی ٹیم انڈیا، زمبابوے کو دورے کی پہلی جیت کی تلاش

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم اور زمبابوے کے درمیان ون ڈے سیریز کا دوسرا مقابلہ اتوار…

1 hour ago

Jio Platforms IPO: شیئر بازار میں JIO کی شاندار انٹری کی تیاری، لسٹنگ کے ساتھ بھارت کی ٹاپ 3 کمپنیوں میں ہوگی شامل

ریلائنس انڈسٹریز کے جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او سرمایہ کاروں کے درمیان زبردست…

2 hours ago