مرکز میں اپنی حکومت کے 12 سال (2014 تا 2026) مکمل ہونے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے کاشتکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ’’کسان خوشحالی‘‘ سے متعلق ایک جامع اور مضبوط رپورٹ کارڈ عوام کے سامنے رکھا۔ جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مسلسل پوسٹس کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کسانوں کی فلاح و بہبود ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے کو ’’بیج سے بازار تک‘‘ مضبوط بنانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی، سوائل ہیلتھ کارڈ اور قدرتی کھیتی جیسے جدید اقدامات کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔
کسان ملک کی خوشحالی کی بنیاد
وزیر اعظم مودی نے اپنی ایک خصوصی پوسٹ میں سنسکرت کے ایک سوبھاشِت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زراعت صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے اور عوام کی پرورش کی بنیادی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیتی اور فصل انسانی زندگی کی بنیاد ہیں اور جب کسانوں کا پسینہ مٹی میں شامل ہوتا ہے تو پورے ملک کی زندگی کو سہارا ملتا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت پی ایم کسان سمان ندھی، پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا اور پی ایم کُسم جیسی اسکیموں کے ذریعے کسانوں کی آمدنی کو محفوظ بنانے اور ان کے اخراجات کم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
مودی حکومت کے دعووں کی تائید کرتے اعداد و شمار
پی ایم کسان سمان ندھی یوجنا:
اس اسکیم کے تحت اب تک ملک بھر کے کسانوں کے بینک کھاتوں میں 4.27 لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم براہِ راست منتقل کی جا چکی ہے۔
فصل بیمہ اور قرض سہولتیں:
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (PMFBY) کے تحت 4 کروڑ سے زائد کسانوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ جبکہ کسان کریڈٹ کارڈ (KCC) کے ذریعے مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کو بھی کم شرح سود پر آسان قرض دستیاب کرایا جا رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زراعت:
سال 2014 سے 2025 کے درمیان سائنس دانوں نے موسمیاتی حالات کے مطابق تقریباً 3,000 نئی فصلی اقسام متعارف کرائی ہیں تاکہ موسم کی شدت سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکے۔
ایگری اسٹیک اور سوائل ہیلتھ کارڈ کا بڑا نیٹ ورک
زراعت کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور جدید بنانے کے لیے ملک بھر میں تقریباً 26 کروڑ سوائل ہیلتھ کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 11 کروڑ کسانوں کے لیے جدید ایگری اسٹیک فارمر آئی ڈی تیار کی جا رہی ہے۔
’’پر ڈراپ مور کراپ‘‘ پروگرام کے تحت 109 لاکھ ہیکٹر زرعی رقبہ شامل کیا جا چکا ہے، جبکہ پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا کے تحت 19 لاکھ ہیکٹر زمین پر قدرتی اور نامیاتی کھیتی کی جا رہی ہے۔
اسی طرح زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ کے تحت منظور شدہ 84,200 کروڑ روپے کی مدد سے دیہی علاقوں میں کولڈ اسٹوریج، جدید منڈیاں اور دیگر زرعی سہولتیں قائم کی جا رہی ہیں، تاکہ کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…