نئی دہلی: ملک میں موبائل فون کی درآمد گزشتہ دس برسوں میں ڈرامائی طور پر کم ہوکر بمشکل 0.02 فیصد رہ گئی ہے، جب کہ 2014-15 میں یہ 75 فیصد تھی۔ پارلیمنٹ میں جمعہ کو پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یہ تبدیلی مقامی پیداوار اور برآمدات میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔
الیکٹرانک مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں اضافہ
وزیر مملکت برائے الیکٹرانکس و آئی ٹی جتن پرساد نے راجیہ سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں الیکٹرانک مصنوعات کی پیداوار 2014-15 کے 1.9 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 11.3 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم کے آتم نربھر بھارت وژن کے تحت حکومت نے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے سیمی کنڈکٹر سمیت پوری ویلیو چین کا مضبوط ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے منظم اور منصوبہ بند حکمت عملی اختیار کی ہے۔‘‘
موبائل فون کی پیداوار 28 گنا بڑھ کر 5.5 لاکھ کروڑ روپے
وزیر کے مطابق ملک میں موبائل فون کی پیداوار 2014-15 کے تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 28 گنا اضافہ کے ساتھ 5.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ وزیر کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق موبائل فون کی برآمدات بھی 2014-15 کے 0.01 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 127 گنا اضافے کے ساتھ 2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ درآمد شدہ فونز پر انحصار اسی عرصے میں 75 فیصد سے کم ہوکر صرف 0.02 فیصد رہ گیا ہے۔
عالمی الیکٹرانک مینوفیکچرنگ مرکز بننے کی جانب پیش قدمی
وزیر نے بتایا کہ حکومت نے بھارت کو الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے ہیں۔ ان اسکیموں میں بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم شامل ہے، جو موبائل فون اور مخصوص اجزاء کی بڑھتی ہوئی فروخت پر 3 سے 6 فیصد تک ترغیب فراہم کرتی ہے۔
دیگر حکومتی مراعات
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی ہارڈویئر کے لیے بھی پی ایل آئی اسکیم نافذ ہے جو لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، سرور، الٹرا اسمال فارم فیکٹر اور آل ان ون پی سی پر اوسطاً 5 فیصد ترغیب دیتی ہے۔ اس کے علاوہ: ایس پی ای سی ایس (سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانک اجزاء کی پیداوار کے فروغ کے لیے اسکیم) جو اہل سرمایہ کاری پر 25 فیصد سرمایہ سبسڈی دیتی ہے، ایم ایس آئی پی ایس جو سرمایہ کاری پر 25 فیصد تک سبسڈی فراہم کرتی ہے اور الیکٹرانک کمپوننٹ مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس)، جس کا مقصد مقامی پیداوار کو مزید فروغ دینا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کی بدولت بھارت نہ صرف موبائل فون مینوفیکچرنگ میں خودکفیل ہو رہا ہے بلکہ عالمی مقابلے میں نمایاں مقام بھی حاصل کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…
اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…
’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…
کنّوا کے قریب تین بلڈوزر کھڑے کرکے اکھلیش یادو کے رتھ پر کی گئی پھولوں…