نئی دہلی : آج کے ڈیجیٹل دور میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کے ہاتھ میں دن بھر موبائل فون نہ رہتا ہو۔ صبح آنکھ کھلتے ہی فون چیک کرنا، گھنٹوں سوشل میڈیا استعمال کرنا، آن لائن کام کرنا، ویڈیوز دیکھنا اور مسلسل چیٹنگ کرنا روزمرہ زندگی کا معمول بن چکا ہے۔ اگرچہ موبائل نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل وقت تک موبائل کی اسکرین پر جھک کر دیکھنے سے گردن پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں “ٹیکسٹ نیک سنڈروم” نامی مسئلہ تیزی سے عام ہو رہا ہے۔ٹیکسٹ نیک سنڈروم دراصل گردن اور سروائیکل ریڑھ کی ہڈی سے متعلق ایک ایسی کیفیت ہے جو موبائل، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ استعمال کرتے وقت مسلسل سر آگے جھکا کر رکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ غلط انداز میں زیادہ دیر بیٹھنے کی وجہ سے گردن کے پٹھے، کندھے اور ریڑھ کی ہڈی اضافی دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عام حالت میں انسان کے سر کا وزن تقریباً 10 سے 12 پاؤنڈ ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے سر آگے جھکتا ہے، گردن پر پڑنے والا دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ صرف 15 ڈگری جھکاؤ پر یہ دباؤ تقریباً 27 پاؤنڈ تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ 60 ڈگری تک سر جھکانے پر گردن کو لگ بھگ 60 پاؤنڈ وزن محسوس ہوتا ہے۔ اگر یہ کیفیت مسلسل برقرار رہے تو ریڑھ کی ہڈی کی ساخت متاثر ہونے لگتی ہے اور گردن وقت سے پہلے کمزور یا بوڑھی محسوس ہونے لگتی ہے۔
مسلسل موبائل استعمال کرنے والے افراد میں گردن کے پٹھے ہر وقت تناؤ کا شکار رہتے ہیں، جس سے ان کی طاقت کم ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس کیفیت کو “ڈیجیٹل ایجنگ” بھی قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی عمر سے پہلے متاثر ہونے لگتی ہے۔اس بیماری کی علامات میں گردن میں مسلسل درد اور اکڑاؤ، کندھوں میں درد یا جکڑن، کمر کے اوپری حصے میں تکلیف، بار بار سر درد، گردن گھمانے میں دشواری، پٹھوں میں کھنچاؤ یا اینٹھن، ہاتھوں اور انگلیوں میں سن ہونا اور جسمانی ساخت میں تبدیلی شامل ہیں، جیسے کندھوں کا آگے کی طرف جھک جانا یا گردن کا غیر معمولی طور پر آگے نکل آنا۔ اگر ان علامات کو نظر انداز کیا جائے تو مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ جدید طرزِ زندگی ہے۔ موبائل اور ٹیبلٹ کا حد سے زیادہ استعمال، لیپ ٹاپ پر غلط انداز میں بیٹھ کر گھنٹوں کام کرنا، مسلسل اسکرین دیکھتے رہنا اور وقفہ نہ لینا گردن پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ مناسب انداز میں نہ بیٹھنا، جسے ایرگونومکس کی خرابی کہا جاتا ہے، بھی اس بیماری کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ٹیکسٹ نیک سنڈروم سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ موبائل فون کا استعمال محدود رکھا جائے اور اسکرین کو ممکنہ حد تک آنکھوں کی سطح پر رکھا جائے۔ بیٹھتے وقت کمر سیدھی اور کندھے پیچھے رکھنے کی عادت اپنائیں۔ ہر 20 منٹ بعد چند لمحوں کا وقفہ لیں، گردن اور اوپری کمر کی ہلکی ورزشیں اور اسٹریچنگ کریں، تاکہ پٹھے مضبوط رہیں اور ریڑھ کی ہڈی پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔ ماہرین کے مطابق بروقت احتیاط ہی اس جدید دور کی اس عام مگر سنگین صحت کی مشکل سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…