قومی

Acharya Mahamandaleshwar Swami Kailashanand Giri Ji Maharaj: آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاشانند گری کا پیغام: جمہوری حقوق کا استعمال شائستگی، ضبط اور قومی مفاد کے جذبے سے کیا جائے

نئی دہلی :  آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاشانند گری جی مہاراج نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے نوجوانوں کے نام جاری کیے گئے حالیہ پیغام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں جمہوری اقدار، مثبت مکالمے، آئین کے احترام اور ہر شہری کے پُرامن و آئینی حقوق کی پاسداری کا واضح پیغام دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار اور جمہوری و پُرامن طریقے سے احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے، جس کا احترام ہر فرد اور ہر ادارے کی ذمہ داری ہے۔اپنے پیغام میں سوامی کیلاشانند گری نے کہا کہ جمہوریت کی اصل طاقت اختلافِ رائے کو برداشت کرنے، مکالمے کو فروغ دینے اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی بات رکھنے میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی شہری کو اپنے خیالات پیش کرنے یا حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم اس حق کا استعمال شائستگی، تحمل اور آئینی اقدار کے دائرے میں رہ کر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی اختلاف یا احتجاج کے نام پر کسی آئینی عہدے پر فائز شخصیت، خصوصاً وزیر اعظم نریندر مودی یا ان کے اہلِ خانہ کے خلاف عوامی سطح پر غیر مہذب، توہین آمیز یا نازیبا زبان استعمال کرنا نہ صرف ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کے منافی ہے بلکہ جمہوری روایات اور سناتن دھرم کی اعلیٰ اقدار سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق ہندوستان کی قدیم روایت ہمیشہ شائستہ مکالمے، باہمی احترام اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کی تعلیم دیتی رہی ہے۔سوامی کیلاشانند گری نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری نظام کا ایک فطری اور لازمی حصہ ہے، لیکن زبان کا وقار برقرار رکھنا اور ذاتی حملوں سے گریز کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عوامی زندگی میں مہذب گفتگو کو فروغ دیا جائے گا تو اس سے نہ صرف جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ سماج میں ہم آہنگی، بھائی چارہ اور باہمی اعتماد بھی فروغ پائے گا۔

انہوں نے غیر مہذب اور ذاتی نوعیت کے تبصروں کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو بڑھاوا دیتی ہے، جس سے جمہوری ماحول متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی عزت و وقار کو مجروح کیا جائے یا ذاتی حملوں کو جائز قرار دیا جائے۔آخر میں آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاشانند گری جی مہاراج نے ملک کے تمام شہریوں، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے جمہوری اور آئینی حقوق کا استعمال ہمیشہ ضبط، شائستگی، ذمہ داری اور قومی مفاد کے جذبے کے ساتھ کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ مثبت سوچ، باوقار طرزِ گفتگو اور تعمیری کردار کے ذریعے ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi to visit Varanasi: سکھوئی، رافیل اور تیجس… آسمان میں نظر آئے گا ہندوستان کا دم، وزیر اعظم مودی کا دورۂ وارانسی

وارانسی میں پروگرام مکمل کرنے کے بعد وزیر اعظم پولیس لائن سے بابَت پور ہوائی…

4 minutes ago

Mutual Funds Investment: ہر ماہ 25,000 روپے کی ماہانہ ایس آئی پی یا 5 لاکھ روپے کی یکمشت سرمایہ کاری، 20 سال میں کس سے بنے گا زیادہ فنڈ؟

اب دونوں طریقوں کا موازنہ کریں تو دیے گئے اندازوں کے مطابق، 25,000 روپے کی…

36 minutes ago

Delhi-NCR, Air Pollution: دہلی-این سی آر میں بارش کے بعد بڑھی ٹھنڈ، کیا زہریلی ہوا سے بھی ملے گی راحت؟

دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بھی تشویش بڑھا رہی ہے۔ 25 اکتوبر کو دستیاب…

1 hour ago

Italy Protests: اٹلی میں احتجاج کی آگ پھر بھڑک اٹھی، کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا کے ذریعے ان…

2 hours ago

UP Special TET Exam: یوپی اسپیشل ٹی ای ٹی 2026 کی تاریخ کا اعلان، 31 اکتوبر سے ملیں گے ایڈمٹ کارڈ، جانیں مکمل شیڈول

یوپی اسپیشل ٹی ای ٹی 2026 کا امتحان 3 نومبر کو دو شفٹوں میں ہوگا۔…

10 hours ago