قومی

ST Hasan on Kanwar route: ’’کانوڑ روٹ پر گوشت کی دکانیں بند اور شراب فروخت ہو رہی، یہ دوہرا معیار کیوں…‘‘ سماج وادی پارٹی لیڈر ایس ٹی حسن کا بڑا سوال

مرادآباد: سماج وادی پارٹی کے سابق ایم پی ایس ٹی حسن نے اتر پردیش میں کانوڑ  یاترا کے دوران نان ویج دکانوں کو بند رکھنے کے حکم پر ایک بار پھر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانوڑ  یاترا کے راستوں پر نان ویج کی دکانیں بند رکھنے کا حکم ہے، لیکن شراب کی دکانوں کو صرف ترپال سے ڈھکا گیا ہے، یہ کونسا انصاف ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا شراب سے کسی کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوگا؟

’’لیکن تقریباً 80 فیصد ہندو کھاتے ہیں نان ویج‘‘

سابق ایم پی ایس ٹی حسن نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات چیت میں کہا، ’’حکومت کا دوہرا رویہ ہے۔ ان کا فیصلہ نہ صرف متضاد ہے، بلکہ غریب دکانداروں کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میرے مطابق، ہمارے ہندو بھائیوں میں سے مشکل سے 30-40 فیصد لوگ ہی شراب پیتے ہوں گے، لیکن تقریباً 80 فیصد نان ویج کھاتے ہیں، ایسے میں گوشت کی دکانوں کو بند کرانا اور شراب کی دکانیں کھلی رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟‘‘

’’حکومت نے ریونیو کے لالچ میں لیا یہ فیصلہ‘‘

سابق رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت نے ریونیو کے لالچ میں یہ فیصلہ لیا ہے۔ ایس ٹی حسن نے کہا، ’’حکومت کو شراب کی دکانوں سے ریونیو مل رہا ہے، اس لیے انہیں بند نہیں کیا گیا۔ لیکن غریب ہوٹل اور گوشت بیچنے والوں کے لیے کسی نے نہیں سوچا، جو روز کماتے اور کھاتے ہیں۔‘‘

حکومت اس مسئلہ پر بھی ایسا ہی رویہ اپنائے

ایس پی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس مسئلہ پر بھی ایسا ہی رویہ اپنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر مذہبی عقیدے کا احترام کرنا ہے، تو دونوں قسم کی دکانوں پر یکساں اصول لاگو ہوں۔ صرف نان ویج دکانوں کو بند کرنا اور شراب کی فروخت جاری رکھنا عقل مندی نہیں ہے۔‘‘

’’حکومت سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔‘‘

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان علاقوں میں بھی گوشت کی دکانیں بند کی جارہی ہیں جہاں سے کانوڑ  یاترا نہیں گزرتی ہے۔ آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے، سابق ایم پی نے کہا، ’’کچھ اہلکار صرف اپنی پیٹھ تھپتھپانے کے لیے پورے شہر میں گوشت کی فروخت پر پابندی لگا رہے ہیں، یہاں تک کہ ان گاؤں میں بھی جہاں سے ایک بھی کانوڑ  نہیں نکلتا ہے۔‘‘ سابق ایم پی ایس ٹی حسن نے آخر میں ایک اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت اپنے احکامات پر نظر ثانی کرے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

7 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

8 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

8 hours ago