قومی

Mayawati Slams Mamta Banerjee: دیدی سے بہن جی ناراض! مایاوتی کی ممتا بنرجی پر سخت تنقید، جانیے آخر کیوں؟

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ہفتہ کے روز مغربی بنگال کے دورے پر تھیں، لیکن ان کے استقبال کے لیے نہ تو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پہنچیں اور نہ ہی ریاستی حکومت کا کوئی وزیر موجود تھا۔ اس غیر متوقع صورتحال پر خود صدر نے حیرت کا اظہار کیا، جبکہ اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے ممتا بنرجی پر آئینی وقار کی خلاف ورزی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

مایاوتی کا ممتا بنرجی پر وار

مایاوتی نے سوشل میڈیا کے ذریعے ممتا بنرجی اور اپوزیشن خیمے کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کے عہدے کا احترام جماعتی سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ مایاوتی نے پرانی بات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ صدارتی انتخاب کے وقت بھی ممتا بنرجی نے جان بوجھ کر بی ایس پی کو میٹنگوں سے باہر رکھا تھا، جو ان کے مبینہ ذات پر مبنی مقاصد کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے لکھا:“صدر جمہوریہ ایک خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ قبائلی سماج سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔ بنگال کے دورے پر ان کے ساتھ جو ہوا، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔”

ممتا کی ‘ناراضگی’ پر صدر جمہوریہ کا جواب

سلی گڑی کے گوشائی پور میں منعقدہ ایک پروگرام میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے ممتا بنرجی کو اپنی چھوٹی بہن قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں بھی بنگال کی بیٹی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ (ممتا) ناراض ہیں یا نہیں، لیکن ان کا دورے پر نہ آنا اور وزیروں کی غیر موجودگی حیران کن ہے۔ دراصل اس وقت ممتا بنرجی کولکاتا میں ووٹروں کی فہرست سے نام ہٹائے جانے کے خلاف دھرنے پر بیٹھی تھیں۔ صدر جمہوریہ کے استقبال کے لیے صرف سلی گڑی کے میئر ہی ایئرپورٹ پہنچے تھے۔

پروگرام کے مقام کی تبدیلی پر بھی سوال

صدر جمہوریہ مرمو نے قبائلی برادری کے پروگرام کے مقام کو بیدھان نگر سے ہٹا کر گوشائی پور منتقل کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دے کر آخری وقت میں مقام تبدیل کرنے کی وجہ سے حاضری کم رہی، جو بہتر نہیں تھا۔

پارلیمنٹ اور آئینی عہدوں کا وقار

مایاوتی نے صرف ممتا بنرجی ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں جاری تعطل پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح لوک سبھا اسپیکر کے عہدے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے، وہ مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیر سے شروع ہونے والا پارلیمنٹ کا اجلاس عوامی مفاد میں بہتر انداز میں چلے گا۔ مایاوتی کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ قبائلی اور خواتین کے احترام کے مسئلے پر ممتا بنرجی کی دھرنا سیاست کو قبول کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ایک طرف جہاں صدر مرمو نے معاملے کو اپنی ناراضگی تک محدود رکھا، وہیں مایاوتی نے اسے ملک کے وفاقی ڈھانچے اور آئینی اقدار پر ضرب قرار دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Netan Yahu Crisis: اسرائیل میں نیتن یاہو کی کرسی پر خطرہ؟ عرب جماعتیں گادی آئزنکوٹ کی حمایت کے لیے تیار، لیکن رکھی بڑی شرط

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…

41 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا خاص شلوک کیا شیئر، بتایا زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا منتر

تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…

1 hour ago

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں آلودگی کا قہر، کئی علاقوں میں اے کیو آئی 400 سے تجاوز، جہانگیرپوری میں 499 ریکارڈ

دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…

1 hour ago

دہلی-این سی آرمیں کھلے عام فروخت ہورہے ہیں پٹاخے؟ سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا سخت سوال

جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…

2 hours ago