نئی دہلی : بہوجن سماج پارٹی (بسپا) کی قومی صدر مایاوتی نے پارٹی کے بانی کانشی رام کی برسی کے موقع پر انہیں ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھارت رتن سے نوازنے کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا۔ انہوں نے بہوجن سماج کو اپنا اصل خاندان قرار دیتے ہوئے پارٹی اور تحریک کو خاندانی سیاست سے پاک رکھنے اور اقتدار کی ’ماسٹر چابی‘ حاصل کرکے بہوجن سماج کو حکمران طبقہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔مایاوتی نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پارٹی کارکنوں سے پوری طاقت کے ساتھ تیاریوں میں جٹنے کی اپیل کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور ناخواندگی جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے بنیادی شعبوں میں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔مایاوتی نے جمعہ کو لکھنؤ میں واقع بسپا کے مرکزی کیمپ دفتر، 9 مال ایونیو میں پارٹی بانی کانشی رام کے مہاپری نروان دیوس پر منعقدہ پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کانشی رام کے مجسمے پر پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے نظریات و مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پروگرام میں بسپا کے قومی کوآرڈینیٹر آکاش آنند سمیت پارٹی کے کئی سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔
بہوجن سماج کے کروڑوں لوگ ہی میرا اصل خاندان: مایاوتی
مایاوتی نے کہا کہ ان کے لیے بہوجن سماج کے کروڑوں لوگ ہی ان کا اصل خاندان ہیں اور سماج کے مفادات، فلاح و بہبود اور شناخت ان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے خودداری اور عزت نفس کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کانشی رام نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔ مایاوتی نے کہا کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پارٹی اور تحریک کو خاندانی سیاست سے دور رکھ کر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانشی رام نے بہوجن سماج کو استحصال کا شکار طبقے سے حکمران طبقے میں تبدیل کرنے اور آئین کے مطابق بہوجن دور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے زندگی بھر جدوجہد کی۔ کانشی رام نے انہیں اپنا جانشین قرار دے کر جو اعتماد ظاہر کیا تھا، وہ اس پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گی۔بسپا سربراہ نے کہا کہ بہوجن سماج کو اپنے عظیم رہنماؤں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اقتدار کی ’ماسٹر چابی‘ حاصل کرنا ہوگی۔
ووٹ کے حق کی طاقت سے حاصل ہوگا اقتدار
کانشی رام کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ بہوجن سماج کو اقتدار کسی کی مہربانی یا رحم و کرم سے نہیں، بلکہ آئین کے ذریعے حاصل حق رائے دہی کی طاقت سے ملے گا۔ اس لیے اپنے ووٹ کے حق کی حفاظت کرنا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب میں آئندہ اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پوری قوت کے ساتھ انتخابی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں۔مایاوتی نے کہا کہ کانشی رام کے مشن کو اس کے حقیقی مقصد تک پہنچانا ہی انہیں سچا خراج عقیدت ہوگا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کانشی رام کو ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھارت رتن سے نوازا جائے۔انہوں نے کہا کہ سماجی تبدیلی کی تحریک میں کانشی رام کے تاریخی کردار اور بہوجن سماج کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے انہیں یہ اعزاز دیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو بھارت رتن دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ کانشی رام بھی سماجی تبدیلی کی تحریک کے اہم رہنماؤں میں شامل تھے اور ان کی خدمات کو مناسب قومی اعزاز ملنا چاہیے۔
فیک نیوز اور گمراہ کن تشہیر سے محتاط رہنے کی اپیل
مایاوتی نے کہا کہ بسپا کو اتنا مضبوط بنانا ضروری ہے کہ بہوجن سماج کی خودداری اور عزت نفس سے جڑے مسائل کو نظر انداز نہ کیا جا سکے۔آئندہ انتخابات کے پیش نظر انہوں نے پارٹی کارکنوں کو جعلی خبروں، پیڈ نیوز، اسپانسر شدہ خبروں اور گمراہ کن تشہیر سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی مخالفین میڈیا، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرکے بسپا کی توجہ انتخابی تیاریوں سے ہٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ ایسی تشہیر سے ہوشیار رہیں اور پارٹی کے مشن پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔مایاوتی نے کانشی رام کے مہاپری نروان دیوس پر اتر پردیش میں ریاستی سطح پر اور دیگر ریاستوں میں زون کی سطح پر سمینار اور تعزیتی پروگرام منعقد کرنے پر پارٹی عہدیداروں، کارکنوں اور حامیوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے پر زور
مایاوتی نے کہا کہ ملک میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری، ناخواندگی اور پسماندگی جیسے سنگین مسائل موجود ہیں۔ ایسے حالات میں چند مٹھی بھر لوگوں کے لیے خوشحالی کا ماحول پیدا کرکے پورے ملک کو خوش حال اور آسودہ نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو لوگوں کو روزگار سے جوڑنے، انہیں خود کفیل بنانے اور ملک کو مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کرنے چاہئیں۔تعلیم، صحت، سڑک اور روزگار کو عوامی مفاد اور فلاح و بہبود کے بنیادی شعبے قرار دیتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ حکومتوں کو ان شعبوں میں نجی شعبے پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری اور صلاحیت کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ان کے مطابق، آئینی اصولوں کے تحت عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جانی چاہیے، نہ کہ ہر خدمت کو صرف منافع اور نقصان کے کاروباری نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔
نئی نسل کے مسائل پر حکومتیں ٹھوس اقدامات کریں: مایاوتی
بسپا سربراہ نے کہا کہ نئی نسل، خاص طور پر جنریشن زی (جن زی) اور جنریشن الفا، تعلیم، روزگار اور بہتر بنیادی سہولیات جیسے مسائل پر اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ان مسائل پر محض دعوے کرنے کے بجائے عملی اقدامات کریں۔انہوں نے انتخابی وعدوں، بدانتظامی اور بدعنوانی کے معاملات میں عوام کے تئیں جواب دہی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔مایاوتی نے بسپا کی پالیسی ’سروجن ہتائے، سروجن سکھائے‘ یعنی سب کی بھلائی اور سب کی خوش حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے نظریے میں سماج کے تمام طبقات، نوجوانوں، خواتین، تاجروں اور کسانوں کے مفادات شامل ہیں۔آخر میں بسپا سربراہ نے کہا کہ کانشی رام کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پارٹی کو تنظیمی طور پر مضبوط کرنا اور بہوجن سماج کو سیاسی طور پر بااختیار بنانا ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بس کالیکا انگلش بورڈنگ اسکول کی تھی۔کاسکی ضلع پولیس دفتر کے سربراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین…
اداکارہ نے نانا پاٹیکر پر لگائے گئے اپنے الزامات پر قائم رہنے کی بات کہی،…
مدورانتکم اور دھاراپورم دونوں اسمبلی سیٹوں پر ٹی وی کے امیدوار آگے، مئی میں حکومت…
پونے کے فارم ہاؤس میں اداکار کی آخری رسومات ادا کی گئیں، ترنگے میں لپٹے…
راہل گاندھی نے ایلون مسک کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا تھا، ’’ایلون، بھارت…
ابھجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے بنگلورو میں ملنے والی…