لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سپریمو مایاوتی کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس اس وقت اچانک متاثر ہو گئی جب کانفرنس ہال میں شارٹ سرکٹ کے باعث دھواں پھیل گیا۔ اس غیر متوقع واقعے کے نتیجے میں ہال میں موجود صحافیوں اور پارٹی کارکنوں میں افرا تفری مچ گئی، جس کے بعد مایاوتی کو بغیر میڈیا کے سوالات کے جواب دیے ہی کانفرنس ادھوری چھوڑ کر باہر جانا پڑا۔ واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے بسپا دفتر میں افراتفری کا ماحول رہا۔ جمعرات کو مایاوتی اپنی سالگرہ کے موقع پر بسپا کے مرکزی دفتر پہنچی تھیں، جہاں انہوں نے میڈیا سے خطاب کا اہتمام کیا تھا۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں انہوں نے پارٹی کی حالیہ سرگرمیوں، عوامی مسائل اور آنے والے انتخابات کے حوالے سے بسپا کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ تاہم، گفتگو کے دوران ہی کانفرنس ہال میں اچانک دھواں اٹھنے لگا، جس سے ماحول کشیدہ ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق شارٹ سرکٹ کے باعث ہال میں دھواں بھر گیا، جس کے فوراً بعد حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ اگرچہ کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر مایاوتی کو ہال سے باہر نکال لیا گیا۔ اس دوران میڈیا کے سوالات کا مرحلہ شروع ہی نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے صحافیوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
پریس کانفرنس کے دوران مایاوتی نے مختصر خطاب میں ایک بار پھر برہمن طبقے کو لے کر اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ برہمن سماج کو کسی کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور سماج میں کسی بھی طبقے پر ظلم نہ ہو، اس کے لیے بی ایس پی کی حکومت ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ برہمن سماج کو مناسب نمائندگی دی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے وعدوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ جب بی ایس پی اقتدار میں آئے گی تو برہمنوں کو مکمل عزت دی جائے گی، ساتھ ہی کَھشتری، جاٹ برادری، دلتوں اور اقلیتوں کے مفادات کا بھی خاص خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بی ایس پی کی سیاست سماجی انصاف اور تمام طبقات کے احترام پر مبنی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مایاوتی ایک بار پھر اپنی پرانی ”سوشل انجینئرنگ“ کی حکمت عملی کو دہرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سال 2007 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے برہمن امیدواروں کو بڑی تعداد میں ٹکٹ دیے تھے، جسے ان کی انتخابی کامیابی کی اہم وجہ مانا جاتا ہے۔ اس وقت پارٹی کا نعرہ ”برہمن شنکھ بجائے گا، ہاتھی آگے بڑھے گا“ خاصا مقبول ہوا تھا اور بی ایس پی نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ اب ایک بار پھر برہمن طبقے کو مرکز میں رکھ کر مایاوتی سیاسی میدان میں سرگرم نظر آ رہی ہیں۔ تاہم، سالگرہ کے موقع پر ہونے والا یہ واقعہ پارٹی کے لیے غیر متوقع رہا۔ بعد میں پارٹی ذرائع نے بتایا کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور مایاوتی محفوظ ہیں، جبکہ شارٹ سرکٹ کی وجوہات کی جانچ کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…