ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر کے صدر مولانا محمد رحمانی مدنی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: اللہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہئے تھی نہیں کی۔ قیامت کے دن پوری روئے زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اورتمام آسمانوں کواس نے اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ رکھا ہوگا وہ رب پاک وبلند ہے ان تمام چیزوں سے جواس کے ساتھ شریک ٹھہرائی جاتی ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی عالم آیا اورکہنے لگا کہ ہماری کتابوں میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ سارے آسمانوں کواپنی ایک انگلی پر، زمینوں کوایک انگلی پر، درختوں کوایک انگلی پر، پانی اور تری کو ایک انگلی پراورتمام مخلوقات کوایک انگلی پررکھ کرفرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں اوردنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات سن کرزور سے ہنسے اورپھرسورۂ زمرکی آیت نمبر67 کی تلاوت فرمائی۔ ان دلائل سے رب کائنات کی جلالت وعظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ رب یقیناً مسلمانوں کا رب ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کے حقوق ادا کریں اوراس کی نصرت کے قابل بننے کی سعی کریں۔ وقف ترمیمی بل کے تناظرمیں ہمیں اپنے رب کی عظمت کوسامنے رکھنا چاہئے اوراس بات کوسمجھنا چاہئے کہ اس کی عظمت وجلالت بہت بڑی طاقت ہے اوروہ ہمارا رب ہے، اسی نے خانہ کعبہ کوہاتھی والے بھاری بھرکم لشکرسے محفوظ کیا تھا اورچھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعہ چونچ اورپنجوں میں لائے گئے کنکروں کوتباہی کا سامان بنا دیا تھا، جس کے نتیجہ میں وہ طاقت ورلشکربھوسہ بن کرتباہ ہوگیا تھا۔ وہ رب آج بھی وہی قدرت رکھتا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے اپنا رب بنالیں اوراسے راضی کرلیں تاکہ اس کی نصرت کے مستحق بن سکیں۔ان خیالات کا اظہارابوالکلام آزاداسلامک اویکننگ سنٹرکے صدرمولانا محمدرحمانی سنابلی، مدنی نے سنٹرکی جامع مسجد ابوبکرصدیق، جوگابائی، نئی دہلی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔
وقف ترمیمی بل سے متعلق تشویش کا اظہار
مولانا محمد رحمانی نے وقف ترمیمی بل سے متعلق اپنی تکلیف اورتشویش کا اظہارکرتے ہوئے اس سانحہ کوبابری مسجد کے سانحہ سے زیادہ تکلیف دہ بتایا اور فرمایا کہ اگر مسلم قیادت اس پرامانت داری کے ساتھ کام کرے گی توبہتر ہے ورنہ جس طرح سے مسلم افسران نے ماضی میں اوقاف کے ساتھ کھلواڑکیا ہے اورہم میں کا ہرشخص اپنے اختیارات والی چیزوں میں ظلم سے کام لے رہا ہے اوراللہ اوراس کے رسول کے نظام کو توڑا اورعہد وپیمان کوکمزورکیا جا رہا ہے اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پرظالموں کومسلط فرما دیتا ہے اورپھروہ ہمارے مال ودولت اورجائیداد کوغصب کرلیتے ہیں۔ انہوں نے بڑے درد مندانہ اندازمیں کہا کہ آج وقف ترمیمی بل کے نتیجہ میں جوبے چینی مسلمانوں میں ہے، وہ بے چینی اس وقت بھی ہوتی جب ان کے خاندانوں سے توحید وسنت کا جنازہ اُٹھتا ہے، صحابۂ کرام کی تنقیص وتوہین ہوتی ہے اورہمارے خاندانوں کی بچیاں مرتد ہوکردوسرے قوموں میں بھاگ کر شادیاں کرلیتی ہیں، ہمارے خاندانوں میں نمازیں چھوڑی جاتی ہیں، کیا یہ پوری صورت حال ہمارے اندربے چینی پیدا کرنے کے لئے کافی نہیں؟ اگراس طرح کی بنیادوں کے خلل کے باوجود ہم بے چین نہیں ہوسکے اوراپنی اصلاح پرتوجہ نہیں دے سکے توآج کیوں اتنا بے چین ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل اسی میں ہے کہ ہم مسجدوں سے جڑیں اورتوحید وسنت کے تقاضوں پرغورکریں اوراللہ سے اپنے رشتہ کومضبوط بنائیں۔
اللہ کی مرضی کے بغیرہمیں نہ کوئی کچھ نقصان پہنچا سکتا: محمد رحمانی
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کی آزادی کوتقریباً اسی سال ہونے والے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہماری قیادت نے نہ تعلیم میں کوئی مضبوط کام کیا اورنہ ہی دینی تربیت کی طرف توجہ دی تواس غفلت کا یہی لازمی نتیجہ ہے، جس سے ہم جوجھ رہے ہیں۔ مولانا محمد رحمانی نے کہا کہ ہمارا اعتقاد اور یقین ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیرہمیں نہ کوئی کچھ نقصان پہنچا سکتا ہے اورنہ کچھ فائدہ اوراگرہمیں اللہ کی مد د چاہئے تواس کے دین کی حفاظت کرنا اس کی بنیادی شرط ہے۔ ہمیں اللہ سے حسن ظن رکھنا چاہئے اوراللہ سے جوبھی گمان رکھا جاتا ہے اللہ اسے یقینا پورا کرتا ہے۔ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جیسے اللہ نے اسلام کے ذریعہ عزت دی ہے اگریہ عزت اسلام کے علاوہ کسی دوسری چیز میں تلاش کی جائے گی تو اللہ ہمیں ذلیل کردے گا۔ ہمارے اسلاف نے مذہب کی تفریق کے بغیر جو مسافر خانے، سرائے اورغریبوں کی مدد کے لیے اوقاف قائم کیے تھے ان پرسیاست یقینا تکلیف دہ ہے لیکن ان مسائل سے نجات کا صرف ایک ہی حل ہے کہ ہم دین کی طرف رجوع کریں۔
مساجد کو آباد رکھنے کی اپیل
مولانا رحمانی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اللہ کے حقوق ادا کریں، مساجد کواللہ کی رضا مندی کے لیے آباد رکھیں، نمازاور صبر کے ذریعہ اللہ کی مدد حاصل کریں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابۂ کرام کے حقوق ادا کریں۔ دین کی بنیادوں پرمضبوطی کے ساتھ قائم رہیں اور یاد رکھیں کہ جب تک ہم اپنی اصلاح نہیں کریں گے تب تک ظالموں کا تسلط ہم پر قائم رہے گا اورہم مظلوم رہیں گے اس لیے اپنی اصلاح پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اخیر میں دعائیہ کلمات پرخطبہ ختم ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام…
وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان اپنے دفاع کے حق کا…
اس دوران محصولات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ آبی ذخیرے…
بتایا جا رہا ہے کہ طالبات کے ہاسٹل کے قریب سے طلبہ کا احتجاج شروع…
ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…