قومی

مدارس ہماری شناخت ہیں، ہم اسے مٹنے نہیں دیں گے، ’تحفظ مدارس کنونشن‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا بڑا بیان

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اعظم گڑھ کے قصبہ سرائے میرمیں منعقدہ ’تحفظ مدارس کنونشن‘ میں خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ مدارس ہماری دنیا ہیں، مذہب ہیں، یہ ہماری پہچان ہیں اورہم اپنی اس پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے۔ مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ  مدارس سے ہی ملک کوغلامی سے آزاد کرانے کی پہلی آوازاٹھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام اجلاس نہیں ہے بلکہ موجودہ حالات میں مدارس کی حفاظت کویقینی بنانے کے لئے اہم تبادلہ خیال کیا گیا اورآگے کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے یہ ایک اہم جلسہ ہے۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یہ مدارس صرف تعلیم کے مراکزنہیں ہیں اوران کا مقصد صرف پڑھانا-لکھانا نہیں بلکہ ملک اورقوم کی خدمت کے لئے نئی نسلوں کی سوچ اورتعلیم کوتیارکرنا بھی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ان مدارس کوغیرقانونی کہہ کرزبردستی بند کیا جا رہا ہے، یہ وہی مدارس ہیں، جہاں سے سب سے پہلے انگریزوں کی غلامی کے خلاف آوازاٹھی تھی۔ سیاست کی خاطر مدارس اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مدارس سے اٹھی آزادی کی آواز: مولانا ارشد مدنی

مولانا سید ارشد مدنی نے تاریخ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ جب 1803 میں پورا ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا تھا، تب دہلی سے مشہورمذہبی اورروحانی ہستی حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے مدرسہ رحمانیہ سے ایک ٹوٹی چٹائی پربیٹھ کراعلان کیا کہ ملک غلام ہوچکا ہے، اس لئے غلامی سے آزادی کے لئے جدوجہد کرنا ایک مذہبی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اعلان کے بعد ان کے مدرسے کونست ونابود کردیا گیا اوران پرظلم کئے گئے۔

مدراس کودہشت گردی کا اڈہ بتایا جا رہا ہے: مولانا مدنی

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ 1857 کا انقلاب جسے انگریزوں نے بغاوت کا نام دیا، اس کے نتیجے میں صرف دہلی میں 32 ہزارعلمائے کرام شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارے بزرگوں کی ڈیڑھ سوسالہ قربانیوں کے بعد آزاد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند بھی اسی مقصد سے قائم کیا گیا تھا کہ ملک کی آزادی کے لیے وہاں سے نئے فرزند تیارکئے جائیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخ سے نا واقف لوگ ان مدارس کودہشت گردی کا مرکزقراردے رہے ہیں، یہ بھی الزام ہے کہ وہاں بنیاد پرستی کی تعلیم دی جاتی ہے۔

’مذہب کی وجہ سے ہورہی ہے مدارس اورمساجد پرکارروائی‘

انہوں نے کہا کہ اترپردیش سے لے کراتراکھنڈ، آسام اورہریانہ تک کے مدارس اورمساجد کے خلاف کارروائی مذہب کی بنیاد پرکی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک جمہوری اورسیکولرملک میں یہ بھید بھاؤاورنا انصافی کیوں؟ جبکہ آئین نے سبھی شہریوں کومساوی حقوق اورمواقع دیئے ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے واضح کیا کہ یہ سب ایک خصوصی نظریے کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ اکثریتی طبقہ اوراقلیتوں کے درمیان نفرت پیدا کی جاسکے اوراکثریتی طبقے کواقلیتوں کے خلاف کھڑا کیا جاسکے، یہ اقتدارحاصل کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

51 minutes ago