قومی

Massive Protest against Congress State President Ajay Rai: سطحی سیاست پڑی بھاری: اجے رائے کے خلاف سڑکوں پر پھوٹا عوامی غصہ، پُتلا نذرِ آتش کر کے کیا احتجاج

منگل کے روز سروجنی نگر کی سڑکوں پر عوامی غصے کا زبردست مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ پانچ ہزار سے زائد شہریوں، بی جے پی کارکنوں اور حامیوں نے یکجا ہو کر اجے رائے کا پُتلا نذرِ آتش کیا، ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر لے کر زور دار احتجاج کیا اور دو ٹوک الفاظ میں عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔ ہر طرف فلک شگاف نعرے گونجتے رہے۔  ڈاکٹر راجیشور سنگھ کی حمایت میں جمع ہزاروں افراد نے پولیس کو میمورنڈم سونپتے ہوئے اجے رائے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر راجیشور سنگھ کی ایماندار شبیہ کو داغدار کرنے کے مقصد سے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ حامیوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی معافی نہیں مانگی گئی تو تحریک مزید تیز کی جائے گی۔

شہید پاتھ موڑ سے ہوٹل ہالی ڈے اِن تک مارچ نکالا

شدید سردی اور بارش بھی عوامی سیلاب کے حوصلے پست نہ کر سکی۔ لوگوں نے شہید پاتھ موڑ سے ہوٹل ہالی ڈے اِن تک مارچ نکالا اور کانگریس پارٹی و اجے رائے کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ مشتعل مجمع نے کانگریس کے سیاہ ابواب کو عوام کے سامنے اجاگر کیا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ اقتدار کی ہوس میں ڈوبے اجے رائے کا سیاسی ماضی موقع پرستی سے بھرا رہا ہے—کبھی سماج وادی پارٹی، کبھی بی جے پی—لیکن ہر بار انتخابی ناکامی ہی ان کا مقدر بنی۔ اسی فرسٹریشن میں وہ ایماندار اور وژنری لیڈروں پر تبصرے کر کے سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ بڑی تعداد میں جمع عوام نے ایک آواز میں کہا کہ ڈاکٹر راجیشور سنگھ کی ایماندار، فرض شناس اور بے داغ شبیہ سے خائف ہو کر اس طرح کے گھٹیا اور بے بنیاد الزامات گھڑے جا رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ موقع پرستانہ سیاست کرنے والے اجے رائے، جو کبھی ایس پی تو کبھی بی جے پی کی دہلیز پر رہے، آج بھی عوامی حمایت کے فقدان میں سستی بیان بازی کے ذریعے توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عوام نے یہ بھی یاد دلایا کہ ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے پولیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں خدمات کے دوران جرم اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیاں کیں، جن میں کانگریس کے کئی بڑے چہروں پر قانونی شکنجہ کسا گیا۔ انہی کارروائیوں کی جلن آج اجے رائے کی بدزبانی میں صاف جھلکتی ہے۔

احتجاج میں بی جے پی کے کئی سرکردہ لیڈرز بھی شامل

لوگوں نے دو ٹوک کہا کہ سروجنی نگر کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نہ صرف علاقے بلکہ پورے صوبے کے لیے ایک مثالی عوامی نمائندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی لیڈر کے خلاف توہین آمیز سیاست اب برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایمانداری، خدمت اور وژن کے ساتھ کھڑے لیڈر پر حملہ پورے علاقے کی عزت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ عوام نے خبردار کیا کہ اگر اجے رائے نے جلد عوامی معافی نہیں مانگی تو یہ تحریک مزید وسیع اور فیصلہ کن شکل اختیار کرے گی۔ اس احتجاج کے دوران بی جے پی کے کئی سرکردہ لیڈر، عوامی نمائندے، عہدیداران، خواتین کارکنان اور علاقائی عوام موجود رہے، جس نے اس احتجاج کو ایک عوامی پیغام میں تبدیل کر دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

17 minutes ago

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

1 hour ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

2 hours ago