قومی

ایمرجنسی کے 51 سال مکمل، ”25 جون یومِ قتلِ دستورتھا“، ڈاکٹر سدھیر سنگھ کی کتاب کے رسم اجرا پربھگت سنگھ کوشیاری کا دعویٰ- وائس چانسلرپروفیسریوگیش سنگھ بھی رہے موجود

نئی دہلی: بھارت میں 1975 میں نافذ کیے گئے ایمرجنسی کے 51 سال مکمل ہونے کے موقع پرمہاراشٹراورگوا کے سابق گورنراوراتراکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ بھگت سنگھ کوشیاری کے ہاتھوں معروف ماہرِسیاسیات اوردہلی یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹرسدھیرسنگھ کی نئی کتاب “Democracy and Human Rights in India: Reflections from Emergency (1975–1977)” کا اجرا عمل میں آیا۔ کتاب کی تقریبِ رونمائی ٹیگورہال، فیکلٹی آف آرٹس، دہلی یونیورسٹی میں منعقد ہوئی، جس میں دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسریوگیش سنگھ بطورمہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ تقریب میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں، طلبہ، میڈیا نمائندوں اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ایمرجنسی کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے یہ کتاب

یہ کتاب آزاد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے ایک نہایت اہم اورمتنازع دوریعنی ایمرجنسی (1975–1977) کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔ کتاب میں آئینی اداروں، شہری آزادیوں، جمہوری طرزِ حکمرانی اورانسانی حقوق پرایمرجنسی کے اثرات کا تاریخی اورفکری تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سدھیرسنگھ نے کہا: ”انیس ماہ تک ہندوستانی جمہوریت تاریکی کے سائے میں رہی۔ ریاستی طاقت کوعدلیہ سمیت جمہوری اداروں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ کوٹلیہ کے مطابق حکمران کی جانب سے انصاف کی فراہمی کسی بھی سیاسی نظام کی بنیاد ہوتی ہے۔ ایمرجنسی کا نفاذ جمہوری اقدارپرایک سنگین حملہ تھا۔“

ایمرجنسی کے دوران اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے بھگت سنگھ کوشیاری، جنہوں نے اس عرصے میں کئی ماہ جیل میں گزارے، نے کہا: ”25 جون کو یومِ قتلِ دستور کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اورآنے والی نسلوں کو اس سے سبق حاصل کرتے رہنا چاہئے۔“ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر یوگیش سنگھ نے جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے تاریخی شعور کی اہمیت پرزوردیا۔ انہوں نے کہا: “نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہندوستانی جمہوریت کے اس تاریک باب کو سمجھے۔ اس کتاب کی رونمائی گویا ایک پرانے زخم کو دوبارہ کھولنے کے مترادف ہے، لیکن جو قوم اپنے زخم بھول جاتی ہے، وہ انہیں دوبارہ دہرانے کا خطرہ مول لیتی ہے۔”

بڑی تعداد میں شامل ہوئے پروفیسراوراسکالرس

ڈاکٹرسدھیرسنگھ حال ہی میں دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات میں پروفیسرکے طورپرشامل ہوئے ہیں۔ وہ ایک ممتازمحقق اورمصنف ہیں۔ اب تک وہ پانچ کتابیں تصنیف کرچکے ہیں، 23 کتابوں کی ادارت کرچکے ہیں اورقومی وبین الاقوامی تحقیقی جرائد میں 93 تحقیقی مقالات شائع کرچکے ہیں۔ اس تقریب میں متعدد ممتازماہرینِ تعلیم اوردانشورشریک تھے، جن میں پروفیسر بھارتی شرما، پروفیسربی کے سنگھ، پروفیسرایم رحمت اللہ، پروفیسرکمارآشوتوش، پروفیسررنجنا مکھوپادھیائے، پروفیسرپرینا ملہوترا، ڈاکٹرکاماکھیا تیواری، پروفیسراے ایس یاروئنگم، پروفیسرروی پرکاش ٹیک چندانی، ڈوٹا کے صدرپروفیسروی ایس نیگی اورڈاکٹرروپیش چوہان شامل تھے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Swami Prasad Maurya Remarks on INDIA Alliance: ’راہل ہی ملک کے ہیرو ہیں، مجھے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں‘، اکھلیش کے انکار پر سوامی پرساد موریہ کا جواب

اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے انڈیا اتحاد میں شمولیت کے معاملے پر سیاسی…

43 minutes ago

Netan Yahu Crisis: اسرائیل میں نیتن یاہو کی کرسی پر خطرہ؟ عرب جماعتیں گادی آئزنکوٹ کی حمایت کے لیے تیار، لیکن رکھی بڑی شرط

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا خاص شلوک کیا شیئر، بتایا زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا منتر

تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…

3 hours ago

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں آلودگی کا قہر، کئی علاقوں میں اے کیو آئی 400 سے تجاوز، جہانگیرپوری میں 499 ریکارڈ

دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…

3 hours ago

دہلی-این سی آرمیں کھلے عام فروخت ہورہے ہیں پٹاخے؟ سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا سخت سوال

جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…

3 hours ago