قومی

‘Nimiya Ke Daar’ at Badariya 2026: ’’نیمیا کے ڈار‘‘ گا کر منوج تیواری نے ’بدریا 2026‘ میں باندھا سماں، سی ایم ڈی اپیندر رائے کو بتایا ’مٹی کی شان‘

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے تالکٹورا انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ ’بدریا: ایک مانسون وداعی مہوتسو 2026‘ میں اس وقت پورا ماحول بھکتی اور لوک رنگ میں ڈوب گیا جب شمال مشرقی دہلی کے رکن پارلیمنٹ اور معروف لوک گلوکار منوج تیواری اسٹیج پر پہنچے۔ ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعروں کے ساتھ اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے منوج تیواری نے نہ صرف بھوجپوری دیوی گیت ’نیمیا کے ڈار‘ گا کر ہزاروں ناظرین کو جھومنے پر مجبور کردیا بلکہ پورے اسٹیڈیم میں لوگوں سے موبائل فون کی فلیش لائٹس روشن کروا کر ایک شاندار منظر بھی پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس پروگرام کے سرپرست اعلیٰ اور ’بھارت ایکسپریس‘ کے سی ایم ڈی و ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے کو ’بھوجپوری مٹی کی شان‘ قرار دیتے ہوئے ’ماتا چکیری دیوی فاؤنڈیشن‘ اور دہلی حکومت کی میتھلی-بھوجپوری اکادمی کی اس پہل کی کھل کر تعریف کی۔

تالکٹورا میں گونجے روایتی لوک سُر

منوج تیواری نے تقریر کے بجائے گیت کے ذریعے لوک ثقافت کو زندہ کرتے ہوئے ناظرین سے پوچھا کہ کتنے لوگوں کو بھوجپوری سمجھ آتی ہے۔ جیسے ہی لوگوں نے ہاتھ اٹھائے، انہوں نے روایتی دیوی گیت ’مائیریا موری جھولیلی نیمیا کے ڈار ہو، مائیریا موری جھولیلی‘ گانا شروع کردیا۔ ناظرین بھی ان کے ساتھ سُر ملاتے ہوئے گانے لگے۔ انہوں نے ’ریشم کے ڈوریا چنن کے جھولنوا، تہی اوپر لاگل باٹے مئیا کے آسنوا‘ اور ’اوڑھی لے لی مئیا رانی للکا اوہار‘ جیسی سطروں کے ذریعے ساون بھادوں اور دیوی کی عبادت کے درمیان موجود روایتی تعلق کو اجاگر کیا۔

مرحوم بڑے بھائی کو یاد کرکے جذباتی ہوئے

پرفارمنس کے دوران منوج تیواری جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گیت انہیں ان کے سب سے بڑے بھائی نے سکھایا تھا، جن کا 22 اگست کو انتقال ہوگیا۔ انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا: ’’یہ گیت مجھے میرے بھیا نے سکھایا تھا۔ ہمارے سب سے بڑے بھائی، جو 22 اگست کو دنیا چھوڑ گئے، انہوں نے ہی مجھے گلوکار بنایا تھا۔ آج جس مائیک سے لوگ تقریر کرتے ہیں، وہیں سے میں اپنے بڑے بھائی کی یاد اور ماتا رانی کے چرنوں میں یہ گیت وقف کر رہا ہوں۔‘‘

سی ایم ڈی اپیندر رائے کو بتایا ’مٹی کی شان‘

گیت کے دوران جب ایک ناظر نے موبائل فون کی ٹارچ روشن کی تو منوج تیواری نے پورے آڈیٹوریم میں موجود لوگوں سے موبائل کی لائٹس آن کرنے کی اپیل کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا تالکٹورا اسٹیڈیم روشنی کے سمندر میں تبدیل ہوگیا۔ اس منظر کے درمیان انہوں نے اسٹیج پر موجود مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارے اپیندر رائے جی یہاں بیٹھے ہیں، جو بھوجپوری اور اپنی مٹی کی بہت بڑی شان ہیں۔ برجیش رائے جی کی سوچ بہت خوبصورت ہے، جنہوں نے ’بدریا‘ جیسے مہوتسو کا تصور پیش کیا۔ اس آڈیٹوریم میں بیٹھے ہر شخص پر ماتا رانی کی کرپا بنی رہے۔‘‘

تقریب میں کئی معروف شخصیات کی شرکت

تقریب میں دہلی بی جے پی کے سینئر رہنما ہرش ملہوترا، دہلی بی جے پی کے تنظیمی جنرل سکریٹری پون رانا، سابق میئر پرویش واہی، اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرپرسن ستیہ شرما، متعدد ارکان اسمبلی، ’ماتا چکیری دیوی فاؤنڈیشن‘ کی صدر یوگیتا سنگھ، فاؤنڈیشن کے بانی برجیش رائے اور ٹرسٹیز سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔

2025 میں ہوئی تھی ’بدریا مہوتسو‘ کی شروعات

دہلی میں ’بدریا مہوتسو‘ کا آغاز یکم ستمبر 2025 کو کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک سے ہوا تھا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور ثقافتی وزیر کپل مشرا کی موجودگی میں اس فیسٹیول کے پہلے ایڈیشن کا انعقاد کیا گیا تھا۔ 2025 کی کامیابی کے بعد 2026 میں اس کا دوسرا ایڈیشن تالکٹورا اسٹیڈیم میں پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر منعقد ہوا۔ اس دوران پدم شری مالنی اوستھی، پریا ملک، چندن تیواری، رشی سنگھ، سمردھ پاٹھک اور ساتوک پاٹھک سمیت 20 سے زائد معروف فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Pakistan-Afghanistan Clash: پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، سوئے ہوئے لوگوں پر جنگی طیاروں نے برسائے بم

فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…

1 hour ago

Mamata Banerjee To Rahul Gandhi: ممتا بنرجی کے رابطے میں راہل گاندھی، انڈیا اتحاد پر کلیان بنرجی کا بڑا دعویٰ

ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…

2 hours ago