منی پور میں جاری کشیدگی کے درمیان ریاست کے 9 ناگا اراکین اسمبلی نے مرکزی حکومت سے براہِ راست مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ناگا اراکین اسمبلی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر حالیہ پرتشدد واقعات پر تشویش ظاہر کی اور چھ ناگا شہریوں کے مبینہ قتل اور ان کی لاشوں کے ساتھ بربریت کے معاملے میں کوکی-زو برادری کے بعض رہنماؤں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اراکین اسمبلی کا الزام ہے کہ کچھ کوکی-زو رہنماؤں نے مبینہ طور پر ان ہلاکتوں کی ذمہ داری لینے کا عوامی طور پر دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے رہنماؤں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ تاہم خط میں لگائے گئے ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ناگا اراکین اسمبلی نے منی پور کی نائب وزیر اعلیٰ نیمچا کِپجن اور ان کے شوہر کے این ایف-پی کے تھانگبوئی کِپجن کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ حالیہ واقعات کے بعض کوکی عسکریت پسند گروہوں سے روابط ہوسکتے ہیں۔ ان الزامات کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
’سسپنشن آف آپریشنز‘ معاہدہ ختم کرنے کی اپیل
اراکین اسمبلی نے کوکی عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ نافذ ’’سسپنشن آف آپریشنز‘‘ (ایس او او) معاہدے کو بھی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ان تنظیموں کی جانب سے معاہدے کی بارہا خلاف ورزی کی گئی ہے اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امت شاہ کو بھیجے گئے خط میں 27 اگست کو امپھال-تمینگ لونگ روڈ پر پیش آنے والے پرتشدد واقعے کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ناگا اراکین اسمبلی کے مطابق اس واقعے میں چار ناگا افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ این ایچ-202 پر ٹی ایم کاسوم میں پیش آنے والے سابقہ واقعات اور لنگکا گاؤں میں مبینہ حملے اور آتش زنی کا بھی خط میں ذکر کیا گیا ہے۔ اراکین اسمبلی کے مطابق لنگکا کے واقعے میں دو کسان ہلاک ہوئے تھے۔
ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
ناگا اراکین اسمبلی نے مرکزی حکومت سے ان تمام واقعات کی سنجیدگی سے تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل جاری تشدد سے عام شہریوں کی سلامتی متاثر ہورہی ہے اور ریاست میں معمول کے حالات بحال کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
حمایت واپس لینے کا اشارہ
خط میں ناگا اراکین اسمبلی نے ایک اہم سیاسی اشارہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر جلد اور ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی تو ان کے لیے منی پور حکومت کو اپنی حمایت جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اراکین اسمبلی نے واضح کیا کہ ان کی اپیل کا مقصد سیاسی دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ ریاست میں امن، سلامتی اور معمول کے حالات بحال کرنا ہے۔ ان کے مطابق تمام برادریوں کے شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا اور تشدد پر مؤثر طریقے سے قابو پانا انتہائی ضروری ہے۔ خط پر نائب وزیر اعلیٰ لوسی ڈیکھو کے علاوہ ناگا ایم ایل اے فورم کے کنوینر آوانگبو نیومائی، سکریٹری جے کُمو شا، ہِل ایریا کمیٹی کے چیئرمین ڈنگانگ لونگ گنگمئی اور اراکین اسمبلی خاصم واشم، لیشیو کیشنگ، ژانگہیم لونگ پانمئی، رام موئی واہ اور ایس ایس اولیش کے دستخط ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…
آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…