قومی

West Bengal Election Results: اقتدار تو دور، سیٹ بھی نہ بچا سکیں ممتا بنرجی، بھوانی پور میں سویندو ادھیکاری نے ‘نندی گرام پارٹ-2’ دہرایا

کولکتہ: مغربی بنگال کی بھوانی پور اسمبلی سیٹ کا نتیجہ سامنے آ چکا ہے، جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار سویندو ادھیکاری نے انہیں 15,105 ووٹوں کے فرق سے ہرایا۔ یہ دوسرا موقع ہے جب ممتا بنرجی کو سویندو ادھیکاری کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔

سیاسی مرکز بنی بھوانی پور سیٹ
انتخابی نتائج کے بعد ایک بار پھر بھوانی پور سیٹ ریاستی سیاست کا مرکز بن گئی ہے۔ ممتا بنرجی اسی حلقے سے رکن اسمبلی رہی ہیں اور یہ سیٹ طویل عرصے سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس حلقے میں دوسرے مرحلے کے تحت 29 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

نندی گرام کی تاریخ دہرائی گئی
ممتا بنرجی کی اس شکست کو 2021 کے اسمبلی انتخابات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جب انہیں نندی گرام سیٹ سے بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت بھی سویندو ادھیکاری نے ہی انہیں شکست دی تھی، جس کے باعث موجودہ نتیجہ کو ’نندی گرام پارٹ-2‘ کہا جا رہا ہے۔

سیاسی رفاقت سے سیاسی مقابلہ تک
سویندو ادھیکاری کبھی ممتا بنرجی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ نندی گرام اور سنگور تحریکوں میں دونوں نے ساتھ مل کر کام کیا، جن کے ذریعے ممتا بنرجی کا سیاسی قد بلند ہوا۔ حالانکہ، وقت کے ساتھ دونوں کے راستے جدا ہو گئے اور سویندو ادھیکاری بی جے پی میں شامل ہو گئے۔

مسلسل دوسری شکست کا سامنا
اہم بات یہ ہے کہ مسلسل دو انتخابات میں ممتا بنرجی کو سویندو ادھیکاری کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔ 2021 میں نندی گرام میں ہار کے بعد ممتا بنرجی نے بھوانی پور کا رخ کیا تھا اور ضمنی انتخاب جیت کر وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی تھی۔

سویندو کا دعویٰ ثابت
2026 کے انتخابات میں سویندو ادھیکاری نے نندی گرام کے ساتھ ساتھ بھوانی پور سے بھی اپنی امیدواری کا اعلان کیا تھا۔ نتائج سے پہلے ہی وہ اپنی جیت کا دعویٰ کر رہے تھے، جو 4 مئی کی شام کو درست ثابت ہوا۔

بھوانی پور کا سیاسی پس منظر
بھوانی پور کا سیاسی تاریخ نشیب و فراز سے بھرا رہا ہے۔ 1951 میں وجود میں آنے کے بعد اس سیٹ پر کئی انتخابات ہوئے۔ ابتدائی برسوں میں کانگریس کا غلبہ رہا، جبکہ ایک بار بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی یہاں کامیابی حاصل کی۔ بعد میں یہ حلقہ کالی گھاٹ کے نام سے جانا گیا اور 2009-2011 کے بعد دوبارہ بحال ہوا۔ 2011 کے بعد سے یہ سیٹ ترنمول کانگریس کا مضبوط قلعہ بنی رہی، لیکن 2026 کے نتائج نے اس روایت کو توڑ دیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Adani Group: اے آئی کی سونامی کے لیے بھارت تیار! اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil مل کر ملک میں بنائیں گے سرور اور کولنگ سسٹم

اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil بھارت میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق…

16 minutes ago

HM Amit Shah’s reply to Rahul Gandhi: امت شاہ کا راہل گاندھی کو دوٹوک جواب، کہا- 2029 میں چوتھی شکست کے لیے تیار رہیں

وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش…

54 minutes ago

PM Modi On Digital India: ریڑھی والے سے لے کر کار شوروم تک، سب کے لیے ایک جیسا پیمنٹ سسٹم! پی ایم مودی نے دنیا کو دکھائی ہندوستان کی ڈیجیٹل طاقت

بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام،…

4 hours ago