قومی

’’نیا بل نامکمل ہے، اگر امتحان کا نظام نہیں بدلا گیا تو پیپر لیک دوبارہ ہو جائیں گے…‘‘ راجیہ سبھا میں ملیکا ارجن کھڑگے نے کیا بڑا دعویٰ

نئی دہلی: اینٹی پیپرلیک بل 2026 پرراجیہ سبھا میں جاری بحث کے دوران قائدِ حزب اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے حکومت پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف نیا قانون بنانے سے پیپر لیک نہیں رکے گا۔ اگرامتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں کی گئیں تومستقبل میں بھی پیپرلیک کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ کھڑگے نے کہا کہ “پیپرچرانے والے بچتے رہے اورمحنت کرنے والے طلبا مارکھاتے رہے۔ اس بل میں نئے اعداد وشمارتوہیں، لیکن پیپرلیک روکنے کا کوئی مؤثرمنصوبہ نہیں ہے۔”

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے 2024 میں اپوزیشن کی تجاویزپرتوجہ نہیں دی اورجلد بازی میں قانون لے آئی، جبکہ اصل ضرورت تعلیمی اورامتحانی نظام میں اصلاحات کی تھی۔ کانگریس لیڈرنے کہا کہ پیپرلیک سے لاکھوں معصوم طلبہ کا مستقبل متاثرہوا ہے، لیکن حکومت نے ان کے مسائل کوسنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان کے مطابق جب تک امتحانات کے پورے نظام میں شفافیت اوراصلاحات نہیں ہوں گی، پیپرلیک کے واقعات نہیں رکیں گے۔

“بل صرف احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کے لیے لایا گیا”

ملیکارجن کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ یہ بل طلبہ کے احتجاج کوٹھنڈا کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی مسلسل جدوجہد رنگ لائی اوربڑھتے ہوئے عوامی دباؤکے باعث حکومت کوجھکنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن، خصوصاً راہل گاندھی، 2024 سے مسلسل پیپرلیک کا معاملہ اٹھا رہے تھے، لیکن حکومت نے اس پرتوجہ نہیں دی۔ کھڑگے نے کہا کہ سابق مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کومجبوری میں عہدے سے ہٹایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے طلبہ کوانتشارپسند قراردیا، ان سے بات چیت کرنے کے بجائے ان پرلاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال کیا، حتیٰ کہ کئی میٹرواسٹیشن بھی بند کردیئے گئے۔ ان کے مطابق احتجاج کے دوران 100 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طلبہ پرپیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا، جبکہ نہ وزیراعظم اورنہ ہی مرکزی وزیرداخلہ نے اس معاملے پرکوئی بیان دیا۔

امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ

ملیکارجن کھڑگے نے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ پربھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگروہ خود استعفیٰ نہیں دیتے تووزیراعظم کوانہیں برطرف کرنا چاہئے۔ انہوں نے بہارمیں احتجاج کے دوران مبینہ طورپراے کے-47 کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا احتجاج کرنے والے طلبہ دہشت گرد تھے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2015 سے 2026 تک نیٹ امتحان کے پرچے کئی بارلیک ہوئے، لیکن آج تک کسی بھی ملزم کوسزا نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرامتحانی نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہیں کی گئیں تومستقبل میں بھی پیپرلیک کے واقعات سامنے آتے رہیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

5 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

6 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

6 hours ago