قومی

Mallikarjun Kharge On Ali Khamenei killing: کسی خودمختار ملک کے سربراہ کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کا بڑا بیان

نئی دہلی: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ٹارگٹڈ کلنگ کے معاملے پر بھارت کی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کے اصولوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ اتوار کو جاری اپنے تفصیلی بیان میں کھڑگے نے کہا کہ بغیر کسی باضابطہ اعلان جنگ کے کسی خودمختار ملک کے سربراہ کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس اس کارروائی کی واضح طور پر مذمت کرتی ہے اور اس مشکل گھڑی میں ایرانی عوام، مرحوم رہنما کے اہل خانہ اور دنیا بھر کی شیعہ برادری سے اظہارِ تعزیت کرتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مرکزی حکومت نے ایران۔اسرائیل تنازعہ پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے براہِ راست تبصرے سے گریز کیا ہے۔ بھارت نے اب تک نہ مکمل طور پر ایران کی حمایت کی ہے اور نہ ہی امریکی یا اسرائیلی کارروائیوں کی کھل کر مخالفت کی ہے، جسے سفارتی توازن کی حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے۔ اپنے بیان میں کھرگے نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی آئین کے آرٹیکل 51 کے مطابق مذاکرات، عالمی قوانین کے احترام اور پرامن طریقے سے تنازعات کے حل پر مبنی رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ ”وسودھیو کٹمبکم“، مہاتما گاندھی کے عدم تشدد اور جواہر لال نہرو کی غیر وابستہ تحریک کے اصولوں کے منافی ہے۔

کانگریس صدر نے مزید کہا کہ کسی بھی خودمختار ریاست کے سیاسی نظام یا قیادت کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش خطرناک رجحان کی علامت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) اور 2(7) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعات ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال کو واضح طور پر ممنوع قرار دیتی ہیں۔

کھڑگے نے اپنے بیان میں صرف ایران ہی نہیں بلکہ وینزویلا جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی بیرونی طاقت کی جانب سے حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے یا قیادت کی تبدیلی کی کوششیں دراصل یکطرفہ مداخلت اور نئی سامراجی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق عالمی نظام قانون اور اصولوں پر قائم ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت کے استعمال پر۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کے شہریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور کسی بیرونی قوت کو حکومت تبدیل کرنے یا سیاسی قیادت مسلط کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ کھڑگے کے اس بیان نے ایران۔اسرائیل جنگ پر بھارت کی اندرونی سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

25 Years of PM Modi’s Political Leadership: مودی کی سیاسی قیادت کے 25 سال مکمل، بیلجیم، نائجیریا اور ڈومینیکن ریپبلک کے لیڈروں  نے دی مبارکباد

نائجیریا کے صدر نے ہندوستان اور نائجیریا کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ…

13 minutes ago

Amit Shah Congratulates PM Modi: وزیر اعظم نریندر مودی کو امت شاہ نے دی مبارکباد، کہا- کارکردگی کی سیاست کی مثال قائم کی

امت شاہ نے کہا کہ مودی جی نے کروڑوں ہم وطنوں میں خود اعتمادی پیدا…

3 hours ago