قومی

Major Setback for Mamata Banerjee in Delhi: ممتا بنرجی کو بڑا سیاسی جھٹکا، ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن شکھیندو شیکھر رائے  نے دیا نے استعفیٰ

نئی دہلی: مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی کو ایک بڑا سیاسی دھچکا اس وقت لگا جب پارٹی کے سینئر راجیہ سبھا رکن شکھیندو شیکھر رائے نے نہ صرف ایوانِ بالا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا بلکہ پارٹی سے بھی اپنا ناطہ توڑنے کا اعلان کر دیا۔شکھیندو شیکھر رائے نے اپنا استعفیٰ راجیہ سبھا کے چیئرمین اور نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن کو پیش کیا۔ استعفے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی میں بدعنوانی کے معاملات پر کھل کر آواز اٹھانے کے بعد انہیں مسلسل نظرانداز کیا گیا اور سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دیا گیا تھا۔

رائے نے واضح الفاظ میں کہا کہ ترنمول کانگریس میں پھیلتی ہوئی بدعنوانی ان کے استعفے کی بنیادی وجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن پارٹی قیادت نے ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔انہوں نے ’’انڈیا‘‘ اتحاد( India Alliance) کے مستقبل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس اپوزیشن اتحاد کے کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ان کے مطابق اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ اس کا مستقبل روشن دکھائی نہیں دیتا۔مغربی بنگال کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے شکھیندو شیکھر رائے نے مطالبہ کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ریاست کے تمام شہروں اور قصبوں میں ہونے والے مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی فارنسک آڈٹ کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ بنگال میں عوام کی ناراضی صرف آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال سے متعلق تنازع تک محدود نہیں تھی بلکہ کئی دیگر مسائل بھی عوامی غصے کا سبب بنے۔ ان کے مطابق آر جی کر معاملے کے بعد عوام کے اندر موجود ناراضی کھل کر سامنے آئی، جس کے سیاسی اثرات بھی دیکھنے کو ملے۔

سیاسی حلقوں میں گزشتہ چند دنوں سے یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں کہ ترنمول کانگریس کے دو راجیہ سبھا اراکین استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ ان ناموں میں شکھیندو شیکھر رائے کے علاوہ اداکارہ اور حال ہی میں راجیہ سبھا پہنچی کوئل ملک کا نام بھی شامل تھا۔ تاہم اب تک کوئل ملک کی جانب سے کسی استعفے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔شکھیندو شیکھر رائے کا استعفیٰ ترنمول کانگریس کے لیے ایک اہم سیاسی نقصان سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ پارٹی کے سینئر اور تجربہ کار لیڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے الزامات نے نہ صرف پارٹی قیادت کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں بلکہ اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ بلاک کے اندرونی حالات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا رائے کسی نئی سیاسی جماعت میں شامل ہوتے ہیں یا اپنی سیاسی حکمت عملی کا الگ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے استعفے نے قومی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Chennai Visit: وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ چنئی کی تیاریوں کے پیش نظر 15 ہزار پولیس اہلکار تعینات

وزیر اعظم کے دورے کے پیش نظر شہر کی اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی جانچ…

5 hours ago

China Open: چائنا اوپن، بارٹونکووا کو شکست دے کر فائنل میں پہنچیں اینڈریوا، عالمی نمبر 3 رینکنگ یقینی

کامیابی کے بعد اینڈریوا نے میڈیا سے کہا، ’’میں فائنل میں پہنچ کر بہت خوش…

5 hours ago

Umrao Jaan: ریکھا نے ’امراؤ جان‘ کے لیے کیوں نہیں لی تھی فیس؟ ہدایت کار مظفر علی نے سنایا دلچسپ قصہ

1981 میں ریلیز ہونے والی فلم میں ریکھا نے امراؤ جان کے کردار کو اپنی…

5 hours ago