افواہ، توڑ پھوڑ اور پھر آتش زنی! پنجاب کی مشہور لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) میں ہونے والے تشدد کے معاملے میں پولیس نے اپنی اب تک کی تحقیقات کی بنیاد پر کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق 26 ستمبر کی شام سوشل میڈیا پر ایک مبینہ جعلی پیغام پھیلنے کے بعد معاملہ بگڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے کیمپس میں احتجاج، پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور آتش زنی شروع ہوگئی۔ 27 ستمبر کی رات اور اگلے دن تک جاری رہنے والے ہنگامے کے دوران ہائی وے جام کیا گیا، پولیس اور میڈیا کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور بعض گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ جالندھر رینج کے ڈی آئی جی نوین سنگلا نے پریس کانفرنس میں پولیس کی اب تک کی تحقیقات کی تفصیلات پیش کیں۔
ریپ کی افواہ سے بھڑکا معاملہ
پولیس کی تحقیقات کے مطابق پورے ہنگامے کی بنیاد 26 ستمبر کی شام سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ایک پیغام سے پڑی۔ اس پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی کے ’G3‘ ہاسٹل میں ایک طالبہ کے ساتھ ریپ ہوا ہے، لیکن انتظامیہ نے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ پیغام پھیلتے ہی بڑی تعداد میں طلبہ مشتعل ہوگئے۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد کیمپس میں توڑ پھوڑ کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور دہلی-جالندھر نیشنل ہائی وے کو مکمل طور پر جام کردیا گیا۔
2 ایف آئی آر درج، 9 افراد گرفتار
کیمپس اور اس کے باہر مبینہ لوٹ مار، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے کے معاملے میں پولیس نے دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ فگواڑہ کے تھانہ ستنام پورہ میں FIR نمبر 163 درج کی گئی ہے، جس میں BNS اور پنجاب پریونشن آف ڈیمیج ٹو پبلک اینڈ پرائیویٹ پراپرٹی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تھانہ صدر میں FIR نمبر 106 درج کی گئی ہے۔ پولیس نے CCTV فوٹیج، تکنیکی نگرانی اور سوشل میڈیا پوسٹس کی مدد سے اب تک 9 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں 7 LPU کے طلبہ اور 2 بیرونی افراد شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں 4 فگواڑہ سے، ایک نابالغ باہر سے، 2 جموں و کشمیر سے اور 2 افراد ممبئی سے شامل ہیں۔ تقریباً 20 مبینہ شرپسندوں کی شناخت کرکے انہیں مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر محمد فرحت بھی پولیس کے ریڈار پر
پولیس کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسر محمد فرحت کا نام بھی تشدد کے معاملے میں سامنے آیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسی ویڈیوز اور پوسٹس ملی ہیں جن میں وہ مبینہ طور پر توڑ پھوڑ اور نقصان پہنچاتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ پولیس نے اسے مقدمے میں نامزد کرلیا ہے اور جلد گرفتار کرکے پوچھ گچھ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
’طلبہ ہمارے بچے ہیں، ابتدا میں لاٹھی چارج نہیں ہوا‘
جالندھر رینج کے ڈی آئی جی نوین سنگلا نے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیے جانے کے دعووں کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ابتدا میں مکمل تحمل کا مظاہرہ کیا، کیونکہ طلبہ ان کے اپنے بچوں کی طرح ہیں اور معاملے کو انتہائی حساس انداز میں سنبھالا گیا۔ تاہم، ڈی آئی جی کے مطابق جب مشتعل ہجوم نے میڈیا اور پولیس کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ شروع کرکے انہیں آگ لگادی تو صورتحال کو قابو میں کرنے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔
ریپ کی FIR، تحقیقات کے لیے SIT تشکیل
پولیس نے واضح کیا کہ کسی بھی مبینہ متاثرہ طالبہ یا اس کے اہل خانہ نے سامنے آکر شکایت درج نہیں کرائی تھی اور نہ ہی کسی مشتبہ شخص کا نام سامنے آیا تھا۔ تاہم طلبہ کے غصے اور مطالبے کو دیکھتے ہوئے پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ریپ کی FIR درج کی ہے۔ ایس پی ونیت اہلاوت کی قیادت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے۔ SIT ہاسٹل میں رہنے والی طالبات، خاتون وارڈن اور مینٹیننس اسٹاف سے پوچھ گچھ کر رہی ہے، جبکہ CCTV فوٹیج بھی کھنگالی جارہی ہے تاکہ مبینہ واقعے کی حقیقت سامنے آسکے۔ اس کے ساتھ ہی کیمپس کے باہر موجود پی جی اور کار رینٹل سے وابستہ مبینہ نیٹ ورک کے کردار کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یہ کنسرٹ بنگلورو میں ہوا تھا۔ مجھے پیشہ ورانہ ریکارڈنگ کے بجائے مداحوں کی جانب…
اس تاریخی گولڈ میڈل کے ساتھ ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم نے لاس اینجلس 2028 اولمپک…
نئی دہلی کے پی ایم شری اسکول میں ’سوچھتا ہی سیوا 2026‘ کے تحت خصوصی…
وزیراعظم نریندر مودی نے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو بھی ان کی یوم…
شکایت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ سرگرمی کو ’پُرامن احتجاج‘ قرار نہیں دیا جا…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ مدھیہ پردیش کے دورے کے دوران گوپالک کانفرنس…