قومی

BJP meeting at PM residence: وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر شام 5:30 بجے اہم اجلاس، امت شاہ سمیت بی جے پی کی اعلیٰ قیادت شریک ہوگی، راجیہ سبھا امیدواروں کے ناموں پر مہر لگنے کا امکان

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک اہم میٹنگ اتوار کی شام وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقد ہوگی، جس میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں آئندہ راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) انتخابات کے لیے امیدواروں کے ناموں پر غور کیا جائے گا اور کئی اہم فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔شام 5:30 بجے ہونے والے اس اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، مرکزی وزیر جے پی نڈا اور دیگر سینئر لیڈرشریک ہوں گے۔ سیاسی حلقوں میں اس اجلاس کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں متعدد ریاستوں میں راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل کے انتخابات ہونے والے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اجلاس میں حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ پارٹی قیادت اس بات کا جائزہ لے سکتی ہے کہ مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں اور عوامی مفاد کے اقدامات کو مزید مؤثر انداز میں عوام تک کیسے پہنچایا جائے۔واضح رہے کہ 10 ریاستوں کی 24 راجیہ سبھا نشستوں کے لیے 18 جون کو دو سالہ انتخابی عمل (بائی الیکشن) منعقد ہوگا۔ آندھرا پردیش، گجرات اور کرناٹک میں چار، چار نشستیں خالی ہو رہی ہیں، جبکہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں تین، تین نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ اس کے علاوہ جھارکھنڈ میں دو جبکہ منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش اور میزورم میں ایک، ایک راجیہ سبھا نشست کے لیے ووٹنگ ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے 22 مئی کو ان انتخابات کا شیڈول جاری کیا تھا۔ کمیشن کے مطابق یکم جون کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا، جبکہ 18 جون کو ووٹنگ اور اسی روز ووٹوں کی گنتی بھی کی جائے گی۔سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا، مرکزی وزیر جارج کورین اور رونیّت سنگھ ان اراکین میں شامل ہیں جن کی مدتِ رکنیت اگلے ماہ مکمل ہو رہی ہے، جس کے باعث نئی نامزدگیوں اور سیاسی صف بندیوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر اور تمل ناڈو میں ایک، ایک راجیہ سبھا نشست کے لیے ضمنی انتخابات کا بھی اعلان کیا ہے۔ مہاراشٹر کی نشست نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ اجیت پوار کے استعفے کے بعد جبکہ تمل ناڈو کی نشست اے آئی اے ڈی ایم کے رکن سی وی شنموگم کے استعفے کے باعث خالی ہوئی ہے۔ دونوں رہنما حال ہی میں اپنی اپنی ریاستی اسمبلیوں کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ادھر بہار، مہاراشٹر اور دیگر بعض ریاستوں میں قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے انتخابات بھی متوقع ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی امیدواروں کے انتخاب میں سماجی، علاقائی اور سیاسی توازن کو خاص اہمیت دے سکتی ہے تاکہ مختلف ریاستوں میں اپنی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط بنائی جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

6 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

7 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

7 hours ago