قومی

Mahua Angry over Prabhas Mandal Encounter: پربھاس منڈل انکاؤنٹر پر مہوا موئترا ہوئیں برہم، کہا- پولیس نے جان بوجھ کر ملزم کا منہ کر دیا بند

نئی دہلی: ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے باروئی پور عصمت دری اور قتل کیس کے ملزم پربھاس منڈل کی پولیس انکاؤنٹر میں ہلاکت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج مغربی بنگال کی تاریخ کا ’سیاہ دن‘ ہے۔

اب یوپی 2.0 بن چکا ہے مغربی بنگال

بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مہوا موئترا نے کہا، ’’آج مغربی بنگال کے لیے سیاہ دن ہے۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی بار انکاؤنٹر میں ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے۔ مغربی بنگال اب یوپی 2.0 میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے ہم نے یہاں کبھی انکاؤنٹر میں کسی ملزم کی ہلاکت نہیں دیکھی تھی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ عصمت دری کے مقدمے کے ملزم پربھاس منڈل کو مغربی بنگال پولیس نے انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق جب ملزم کو جائے وقوعہ پر جرم کا منظر دوبارہ پیش کرنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا تو اس نے فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس کو فائرنگ کرنا پڑی۔

پولیس کو ٹانگ پر گولی مارنی چاہیے تھی

مہوا موئترا نے کہا کہ قانون کے مطابق ایسی صورت حال میں پولیس کو ملزم کی ٹانگ پر گولی مارنے کا اختیار ہوتا ہے، نہ کہ سینے، سر یا جسم کے کسی دوسرے حصے پر۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر مغربی بنگال پولیس نے ایسی فائرنگ کیوں کی جس سے ملزم کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ ان کا الزام تھا کہ موجودہ وقت میں پولیس بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشاروں پر کام کر رہی ہے اور وہ پربھاس منڈل کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا چاہتی تھی، اسی لیے اسے جان لیوا گولی ماری گئی۔

وزیر اعلیٰ کے بیان پر بھی مہوا کی تنقید

ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ نے وزیر اعلیٰ کے ایک بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کہا تھا، ’’صبح جمع کرو اور شام کو خرچ کرو۔‘‘ مہوا موئترا کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صبح تک پربھاس منڈل زندہ تھا، لیکن شام تک اسے ہلاک کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس واقعے کو انصاف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مغربی بنگال وہ سرزمین ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔

ہر ملزم کو قانونی عمل کا حق حاصل ہے

مہوا موئترا نے کہا کہ سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مغربی بنگال ہندوستان کا حصہ ہے، جہاں آئین کی حکمرانی چلتی ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں بھی قانون کی بالادستی ہونی چاہیے، جہاں ہر ملزم کو عدالتی کارروائی میں شامل ہونے اور قانون کے مطابق سزا پانے کا پورا حق حاصل ہو، چاہے اس پر کتنا ہی سنگین الزام کیوں نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہی قانون کی حکمرانی اور جنگل راج کے درمیان بنیادی فرق ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مغربی بنگال میں جنگل راج قائم ہو چکا ہے اور قانون کی حکمرانی ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر حکومت کو جواب دینا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Sports News: ویسٹ انڈیز نے تاریخی ہدف حاصل کرکے ریکارڈز کی جھڑی لگا دی، شائی ہوپ کے نام بھی بڑی کامیابی

دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…

7 hours ago

LG Swaraj Dweep visit: ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما کا دورہ جزائر انڈمان و نکوبار: ہاپ آن ہاپ آف بس سروس کا آغاز اور اہم اعلانات

جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…

8 hours ago

PMEGP Scheme: پی ایم ای جی پی اسکیم سے کامیاب کاروبار کھڑا کیا، شاکر خان بنے کئی لوگوں کے لیے روزگار فراہم کرنے والے

مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…

9 hours ago