ممبئی: مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں ایک غیر متوقع اور حیران کن سیاسی منظر سامنے آیا ہے، جہاں روایتی طور پر ایک دوسرے کی سخت مخالف جماعتیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور انڈین نیشنل کانگریس (کانگریس) بعض مقامات پر ایک ساتھ انتخابی میدان میں نظر آئیں۔ اس غیر معمولی اتحاد نے نہ صرف ریاست بلکہ قومی سیاست میں بھی شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اکوٹ میں بی جے پی کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی حمایت ملنے کی خبریں سامنے آئیں، جس سے سیاسی ہلچل مزید تیز ہو گئی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اتحاد مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بڑے الٹ پھیر کی علامت ہے۔ عام طور پر ایک دوسرے کے نظریاتی مخالف سمجھی جانے والی بی جے پی اور کانگریس کا ایک پلیٹ فارم پر آنا اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ کیا اقتدار کی سیاست میں نظریات اب ثانوی ہو چکے ہیں۔
امبرناتھ اور اکوٹ میں غیر معمولی اتحاد
تھانے ضلع کی امبرناتھ میونسپل کونسل میں بی جے پی اور کانگریس کے مقامی لیڈروں کے درمیان اتحاد عمل میں آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کو اقتدار سے دور رکھنا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ مقامی سطح پر کیا گیا اور اس کی پیشگی اطلاع پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو نہیں دی گئی۔ ادھر اکولا ضلع کے اکوٹ بلدیاتی انتخابات میں ایک اور حیران کن پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں بی جے پی کو اپنے ایک اور سیاسی مخالف، اے آئی ایم آئی ایم کی حمایت حاصل ہوئی۔ اس غیر متوقع تعاون نے مقامی سیاست کے روایتی اتحادوں کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔
کانگریس کی سخت کارروائی
جیسے ہی کانگریس کی مرکزی قیادت کو امبرناتھ میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی خبر ملی، پارٹی نے فوری اور سخت قدم اٹھایا۔ امبرناتھ بلاک کانگریس کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا، جبکہ بلاک صدر پردیپ پاٹل سمیت تمام منتخب کونسلروں کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔ امبرناتھ میونسپل کونسل میں بی جے پی نے کانگریس اور اجیت پوار گروپ کی این سی پی کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا، جہاں کانگریس کے 12 کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ کانگریس قیادت نے واضح کیا کہ یہ اتحاد ریاستی یا مرکزی قیادت کی اجازت کے بغیر کیا گیا تھا اور اسے پارٹی پالیسی کے خلاف قرار دیا گیا۔
بی جے پی اور شیو سینا کا ردعمل
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر فڈنویس نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے لیے کانگریس یا اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مقامی سطح پر کسی نے پارٹی لائن کے خلاف قدم اٹھایا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان نے تھانے میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کانگریس سے منتخب ہونے والے 12 کونسلر اب باضابطہ طور پر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں اور آئندہ دو سے تین دنوں میں اس کی قانونی کارروائی مکمل کر لی جائے گی۔ دوسری جانب ایکناتھ شندے گروپ کی شیو سینا نے اس پورے واقعے کو اتحاد کے ساتھ دھوکہ قرار دیا اور بی جے پی پر اتحادیوں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
سیاسی پیغام واضح
امبرناتھ کے بلدیاتی انتخابات بی جے پی کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوئے، جہاں اس نے نہ صرف اپنی اتحادی شیو سینا کو مقامی سطح پر پیچھے چھوڑا بلکہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کر کے اس کی مقامی تنظیم کو بھی تقریباً ختم کر دیا۔ اس انتخابی نتیجے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ سیاست میں کئی مواقع پر نظریات سے زیادہ اقتدار، حکمت عملی اور سیاسی مساوات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…