قومی

CM Fadnavis meets HM Amit Shah: مہاراشٹر میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے وزیر داخلہ امت شاہ سے کی ملاقات

مہاراشٹر میں جاری سیاسی ہلچل اور مہایوتی اتحاد میں دراڑ کی خبروں کے درمیاں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے آج دہلی میں وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اس ملاقات کی خبر اور تصویر شیئر کرتے ہوئے دیویندر فڑنویس نے لکھا ’’آج نئی دہلی میں ہمارے قائد محترم مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون امت بھائی شاہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں حکومت مہاراشٹر کے کچھ اہم مسائل پر بات کی جن کے لیے حکومتِ ہند کی منظوری درکار ہے۔‘‘ مہاراشٹر میں بی جے پی حکومت کے دو اہم اتحادیوں این سی پی اور شیو سینا (شندے) کے درمیان دراڑ کی خبروں کے درمیان وزیر داخلہ امت شاہ سے دیویندر فڑنویس کی یہ ملاقات نہایت اہم مانی جا رہی ہے۔

این سی پی اور شندے سینا کے درمیان جاری ہے سرد جنگ

واضح رہے کہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی پارٹی نے دوسرے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے خلاف فنڈز کے اجرا اور تقسیم میں ناانصافی کے الزامات لگائے ہیں اور کہا ہے کہ شندے سینا کے لیڈران کے زیر انتظام محکموں کو مناسب فنڈ جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔ وہیں این سی پی (اجیت پوار دھڑے) اور شیو سینا (شندے دھڑے) کے سرکردہ رہنما ایک دوسرے کے عوامی پروگراموں سے گریز کرتے رہتے ہیں۔ ہفتے کے آخر میں ایک دوسرے کے پروگراموں میں دونوں کیمپوں کی عدم موجودگی نے ایک سرد جنگ کے امکانات کو اور تقویت دی ہے۔ ہفتہ کو این سی پی نے ممبئی میں مہاراشٹر کے سابق وزرائے اعلیٰ کے اعزاز میں ایک اعلیٰ سطحی پروقار تقریب کی میزبانی کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور ان کی پارٹی کے لیڈروں نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی۔ وہیں صرف ایک دن پہلے اجیت پوار اور ان کی پارٹی کے وزراء شندے کی قیادت والی شیوسینا کے رہنما اور وزیر سیاحت شمبھوراج دیسائی کی طرف سے منعقد مہابلیشور ٹورازم فیسٹیول سے دور رہے۔

بی جے پی اب تک اس معاملے پر ہے خاموش

وہیں رائے گڑھ کے لیے ایک سرپرست وزیر کا عہدہ بھی حساس مسئلہ بنا ہوا ہے، جس دونوں دھڑوں کی نظریں ہیں۔ دریں اثنا شیو سینا کے ایم ایل اے سنجے شرساٹ نے فنڈ کی ادائیگی میں تاخیر پر اجیت پوار پر کھل کر تنقید کی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان سرد جنگ تیز ہو گئی ہے۔ تاہم اس درمیان حکمراں اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی بی جے پی نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

10 hours ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

11 hours ago