مہاراشٹر حکومت نے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقے کو دیے گئے 5 فیصد ریزرویشن سے متعلق تمام باقی ماندہ انتظامی کارروائیوں کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت کے تازہ حکم کے مطابق اب اس زمرے کے تحت کسی بھی طرح کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ ریزرویشن پہلے ہی عدالتی عمل کے بعد غیر مؤثر ہو چکا تھا، تاہم اس سے متعلق چند سرکاری احکامات اور انتظامی عمل درآمد کو تکنیکی طور پر برقرار سمجھا جا رہا تھا۔ اب دیویندر فڈنویس کی قیادت والی حکومت نے انہیں بھی منسوخ کر دیا ہے۔
نئے سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہوں گے
سرکاری حکم نامے کے مطابق اب ریاست کے کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں 5 فیصد مسلم ریزرویشن کی بنیاد پر داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ اس زمرے کے تحت نئے ذات سرٹیفکیٹ یا ویلیڈیٹی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پہلے جاری کیے گئے تمام سرکاری سرکولر اور احکامات کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 2014 کے فیصلے کی بنیاد پر زیر التوا یا جاری کوئی بھی عمل اب آگے نہیں بڑھے گا۔ اقلیتی امور کے محکمے میں بھی انتظامی سطح پر تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
کب اور کس حکومت نے دیا تھا ریزرویشن؟
مہاراشٹر میں مسلم برادری کو 5 فیصد ریزرویشن جولائی 2014 میں کانگریس-این سی پی اتحاد کی حکومت نے دیا تھا۔ اس وقت ریاست کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان تھے۔ حکومت نے سماجی انصاف محکمہ کے ذریعے ایک آرڈیننس جاری کرتے ہوئے مسلموں کو ایس ای بی سی-اے (SEBC-A) زمرے میں شامل کیا تھا۔ یہ کوٹہ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں دونوں میں نافذ کیا گیا تھا، جس کے بعد ریاست میں مجموعی ریزرویشن کی شرح تقریباً 73 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس تجویز کو اس وقت کی کابینہ میں پیش کیا گیا تھا اور اسے مراٹھا ریزرویشن کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے لگائی تھی روک
اس آرڈیننس کو بعد میں میں چیلنج کیا گیا تھا۔ 14 نومبر 2014 کو عدالت عالیہ نے اس پر روک لگا دی تھی۔ چونکہ یہ آرڈیننس 23 دسمبر 2014 تک قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکا، اس لیے وہ از خود غیر مؤثر ہو گیا تھا۔ تاہم اس کی بنیاد پر جاری بعض سرکاری فیصلے اور سرکولر انتظامی سطح پر زیر بحث تھے، جنہیں اب باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اب مسلموں کے لیے 5 فیصد ریزرویشن سے متعلق کوئی بھی انتظامی یا قانونی عمل باقی نہیں رہا اور مستقبل میں اس بنیاد پر کسی قسم کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…