مہانَدی ندی کے پانی کی تقسیم کے معاملے پر اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع اب ایک اہم مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں یکم اکتوبر کو نئی دہلی میں دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔ اس میں اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے شرکت کریں گے۔ میٹنگ میں مہانَدی کے پانی کی تقسیم اور تنازع کے ممکنہ حل پر بات چیت ہوگی۔
حل کی امید کیوں بڑھی؟
یہ ملاقات 20 ستمبر کو وشنو دیو سائے اور موہن چرن ماجھی کے درمیان بھونیشور میں ہوئی ملاقات کے تقریباً 10 دن بعد ہو رہی ہے۔ دونوں وزرائے اعلیٰ نے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک مہانَدی سمیت مختلف معاملات پر بات چیت کی تھی۔ ملاقات کے بعد سائے نے کہا تھا کہ مہانَدی کے پانی کو لے کر دونوں ریاستوں کے درمیان کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اور بات چیت کے ذریعے جلد حل نکالا جا سکتا ہے۔ دونوں ریاستوں کے عہدیدار پہلے ہی نئی دہلی میں بات چیت کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے 30 جولائی کو مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل کی صدارت میں بھی دونوں وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ ہوئی تھی۔ مرکزی حکومت کے مطابق اس ملاقات کا مقصد بات چیت، تکنیکی تعاون اور باہمی تعاون کے ذریعے تنازع کا دوستانہ حل تلاش کرنا تھا۔
مہانَدی تنازع کی جڑ کیا ہے؟
مہانَدی پانی کا تنازع بنیادی طور پر اس بات سے متعلق ہے کہ ندی کے پانی کو اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے درمیان کس طرح تقسیم اور منظم کیا جائے۔ اڑیسہ نے چھتیس گڑھ میں مہانَدی کے اوپری حصے میں بنائے گئے بیراجوں اور دیگر آبی منصوبوں پر اعتراض کیا ہے۔ اڑیسہ کا موقف رہا ہے کہ ان منصوبوں اور پانی کے ضابطے کی وجہ سے خاص طور پر کم بارش والے موسم میں ندی کے نچلے حصے، یعنی اڑیسہ کی طرف پانی کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔ فروری 2026 میں لوک سبھا میں پیش کیے گئے حکومت کے جواب میں بھی مہانَدی کے اوپری حصے میں بیراجوں کی تعمیر اور اڑیسہ میں پانی کے بہاؤ سے متعلق تنازع کا ذکر کیا گیا تھا۔ اڑیسہ حکومت نے 2016 میں مرکزی وزارت آبی وسائل کے سامنے چھتیس گڑھ میں اوپری حصے میں 6 بیراجوں کی تعمیر پر اعتراض درج کرایا تھا۔ اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور 2018 میں مہانَدی واٹر ڈسپیوٹس ٹریبونل تشکیل دیا گیا۔ تنازع اب بھی ٹریبونل کے سامنے زیر سماعت ہے۔
مرکزی حکومت کا کیا کردار ہے؟
مرکز دونوں ریاستوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ مرکزی آبی کمیشن بھی تکنیکی معاملات پر دونوں ریاستوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اڑیسہ کے ایڈووکیٹ جنرل پتمبر آچاریہ کے مطابق مرکزی آبی کمیشن کے سیکریٹری نے گزشتہ دو دور کی بات چیت کی تفصیلات ٹریبونل کے سامنے بھی پیش کی ہیں، جنہیں ٹریبونل نے ریکارڈ پر لے لیا ہے۔ یکم اکتوبر کی میٹنگ اسی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس میں دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ اعلیٰ حکام اور تکنیکی ٹیموں کے بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔ مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل کی موجودگی بھی متوقع ہے۔
کیا تنازع ختم ہو جائے گا؟
ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یکم اکتوبر کی میٹنگ کے بعد تنازع مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ تاہم، دونوں ریاستوں کی حالیہ بات چیت اور مرکزی حکومت کی ثالثی کے بعد باہمی رضامندی سے حل تلاش کرنے کی کوشش تیز ہوئی ہے۔ اصل پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ مہانَدی کے پانی کی تقسیم اور انتظام کے لیے دونوں ریاستیں کس فارمولے پر اتفاق کرتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ملک کے کئی حصوں میں مانسون کی واپسی کے درمیان موسم میں تبدیلی کا سلسلہ…
ٹی وی کے معروف ریئلٹی شو ’رائز اینڈ فال 2‘ میں پرینکا چاہر چودھری اور…
ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ون ڈے میں روہت شرما نے شاندار بلے بازی کرتے…
افغانستان میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ جمعرات کی صبح…
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ-1073 میں 30 ہزار فٹ…
ایشیئن گیمز 2026 کے مردوں کے کرکٹ مقابلے کے پہلے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش…