قومی

لکھنو یونیورسٹی کے پروفیسر نے طالبہ سے کی گندی بات، کیبن میں آکرپیپر لیک کی پیشکش، پولیس نے کرلیا گرفتار

اترپردیش کی لکھنویونیورسٹی ایک بارپھرسرخیوں میں ہے۔ یہاں پیپرلیک کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسرآڈیووائرل ہورہا ہے۔ اس آڈیو کے سامنے آنے کے بعد ہنگامہ مچ گیا ہے۔ آڈیومیں پروفیسرپرمجیت سنگھ ایک طالبہ سے فحش بات چیت کرتے ہوئے اورامتحان کا سوال نامہ لیک کرانے کا لالچ دیتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ پرمجیت سنگھ نے ان تمام الزامات کی تردید کی تردید کی ہے اورسازش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، پرمجیت سنگھ، زولوجی ڈپارٹمنٹ میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر، ایک طالب علم، بی ایس سی کے آخری سال کے طالب علم پر، چھٹیوں سے جلد واپس آنے کے لئے دباؤ ڈالتے ہوئے سنا ہے۔ پروفیسرکویہ کہتے ہوئے صاف سنا جا سکتا ہے کہ “امتحان سے پہلے گھرآؤ، میں تمہیں پیپردے دوں گا۔” وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ پہلے ہی اس کے لئے پیپرآوٹ کرا دیا ہے۔

فون پرنازیبا الفاظ کا بھی استعمال

پرمجیت سنگھ نے طالبہ کوفون کرکے چھٹی سے واپس آنے کا دباوبنایا۔ اس دوران انہوں نے نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا۔ وہ اسے کھلا آفردیتے ہیں کہ آپ کے لئے پیپرآوٹ کردیا، ہرطرح سے ہیلپ کریں گے۔ آڈیومیں پروفیسرطالبہ کولالچ دیتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں۔ وائرل آڈیومیں پرمجیت سنگھ طالبہ کو کیبن میں آنے کے لئے کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک بار ملنے آنا ہوگا۔

طالبہ نے کیا انکار، پروفیسرنے الزام کو کیا مسترد

حالانکہ بات چیت کے دوران طالبہ نے پرفیسرسے واضح طورپر کہا کہ اسے کوئی پیپرلیک نہیں دیکھنا ہے کیونکہ اس نے اپنی پڑھائی پوری کرلی ہے۔ اس حادثہ کے بعد سے طالبہ ذہنی طور پرکافی پریشان رہی ہے۔ اس نے معاملے کی جانکاری یونیورسٹی انتظامیہ کودی، جس کے بعد یہ انتظامی اورقانونی کارروائی شروع ہوئی۔ وہیں حراست میں لئے جانے سے پہلے پروفیسر پرمجیت سنگھ نے ان الزامات کوازسرنوخارج کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یونیورسٹی کی داخلی سیاست کی وجہ سے انہیں جان بوجھ کرپھنسایا جا رہا ہے۔

ملزم سے پوچھ گچھ جاری

یہ پورا معاملہ سامنے آنے کے بعد طلبا میں پروفیسرپرمجیت سنگھ کے خلاف زبردست ناراضگی ہے۔  وہیں یونیورسٹی نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حسن گنج تھانے شکایت درج کرائی ہے، جس کے بعد لکھنو پولیس ملزم پروفیسرپرمجیت سنگھ کوحراست میں لے لیا۔ پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔

جانچ کے لئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل

اس پورے معاملے کی داخلی جانچ کے لئے ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل کی گئی ہے، جسے اگلے 24 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ سونپنی ہے۔ وائس چانسلرپروفیسرجے پی سینی نے اس ضمن میں یونیورسٹی کی انٹرنل کمپلینٹ کمیٹی (آئی سی سی) کوحکم دیا ہے کہ وہ 24 گھنٹے کے اندراس معاملے کی باریکی سے جانچ کرکے اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ وہیں انتظامیہ نے ایک پریس ریلیزجاری کرکے کہا کہ ادارے کے وقاراورتعلیمی ماحول کوٹھیس پہنچانے والے کسی بھی عمل کوبرداشت نہیں کیا جائے گا اوریونیورسٹی ایسے معاملوں میں”زیرو ٹالرینس” کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

22 minutes ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

1 hour ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

1 hour ago