کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں ایک بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پہلی بار تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست میں حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا 15 سالہ اقتدار ختم ہوتا نظر آرہا ہے، جسے ریاست کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، 294 رکنی اسمبلی میں بی جے پی تقریباً 193 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ ٹی ایم سی 94 نشستوں پر آگے ہے۔ دیگر جماعتوں میں کانگریس، سی پی آئی (ایم)، آل انڈیا سیکولر فرنٹ اور دیگر چھوٹی جماعتیں محدود نشستوں پر آگے ہیں۔
فلاحی جنگ: 3000 روپے کا وعدہ بنا گیم چینجر
بی جے پی کی کامیابی میں سب سے اہم کردار اس کی جارحانہ فلاحی پالیسیوں نے ادا کیا۔ جہاں ممتا بنرجی کی حکومت کی ’لکشمی بھنڈار‘ اسکیم کو مضبوط سمجھا جا رہا تھا، وہیں بی جے پی نے اپنے منشور کے تحت ماہانہ 3000 روپے دینے کا وعدہ کر کے خواتین ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کے علاوہ ساتویں پے کمیشن کے نفاذ اور بقایاجات کی جلد ادائیگی کے وعدے نے سرکاری ملازمین میں بھی بی جے پی کے لیے حمایت پیدا کی۔
’ایس آئی آر‘ اور سکیورٹی کا عنصر
اس انتخاب میں خصوصی انٹینسیو ریویژن (SIR) بھی ایک بڑا فیکٹر ثابت ہوا، جس کے تحت تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے نام فہرستوں سے ہٹائے گئے۔ بی جے پی نے اسے غیرقانونی دراندازوں کے خلاف قدم قرار دیا، جبکہ ٹی ایم سی نے اسے مخصوص طبقوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازش بتایا۔ الیکشن کمیشن نے ریاست میں 2.4 لاکھ سے زائد نیم فوجی اہلکار تعینات کیے، جو 2021 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھے۔ اس سخت سکیورٹی بندوبست نے بی جے پی کے مطابق ووٹروں کو بلا خوف ووٹنگ کا موقع فراہم کیا۔
زبردست انتخابی مہم اور ’ڈبل انجن‘ بیانیہ
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے ریاست بھر میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ چار روزہ ریلیوں کے دوران انہوں نے ترقی، قانون و نظم اور بدعنوانی جیسے مسائل کو زور دے کر اٹھایا۔ پارٹی نے ’’ڈبل انجن سرکار‘‘ کا نعرہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکز اور ریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ترقی کو تیز کرے گی۔ ساتھ ہی ایک کروڑ روزگار اور صنعتی ترقی کے وعدوں نے نوجوان ووٹروں کو متاثر کیا۔ بی جے پی نے اس بار اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے مقامی زبانوں اور علاقائی شناخت کو بھی اہمیت دی۔ کرمالی اور راجبونگشی زبانوں کو آئینی درجہ دینے کے وعدے اور شمالی بنگال کے مسائل کے حل کی یقین دہانی نے پارٹی کو مقامی سطح پر مضبوط کیا۔
اپوزیشن کے لیے بڑا دھچکا
مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی شکست اپوزیشن اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔ ممتا بنرجی، جو خود کو قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط چہرہ پیش کر رہی تھیں، اب ایک غیر یقینی سیاسی مستقبل کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ نتیجہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل اپوزیشن کے لیے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ بی جے پی نہ صرف قومی بلکہ ریاستی سطح پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید…
اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے…
ڈاکٹر شکیل احمد خان نے مرکز اور بہار حکومت سے سوال کیا کہ مہادلتوں کے…
وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری ملازمت کے لیے ایسے نوجوانوں کا انتخاب ضروری ہے…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے رام ناتھ کووند کو یوم پیدائش کی مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نے یو پی ایس سی کی صدی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے کہا…