قومی

HM Amit Shah: لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک، پارلیمنٹ میں امت شاہ دیں گے حکومت کی جانب سے جواب

نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر منگل کو پارلیمنٹ میں اہم بحث ہونے والی ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق اس معاملے پر ایوان میں تفصیلی گفتگو کی جائے گی اور بحث کے اختتام پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ حکومت کی طرف سے باضابطہ جواب پیش کریں گے۔ امکان ہے کہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو بھی اس بحث میں حصہ لیں گے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس معاملے پر جلد از جلد بحث مکمل کر کے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر اوم برلا پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایوان کی کارروائی کے دوران غیر جانبداری برقرار نہیں رکھی۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اسپیکر نے اکثر مواقع پر حکمراں جماعت کو ترجیح دی اور اپوزیشن ارکان کو اپنی بات رکھنے کے لیے مناسب وقت فراہم نہیں کیا۔ اسی بنیاد پر کانگریس کے تین ارکان پارلیمنٹ محمد جاوید، کے سریش اور ملو روی نے یہ عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس تحریک کی حمایت میں مجموعی طور پر 118 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط شامل ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے بعض فیصلوں نے ایوان کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بعض مواقع پر اپوزیشن کی خواتین ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں نامناسب تبصرے کیے گئے اور متعدد اپوزیشن ارکان کو پورے اجلاس کے لیے معطل بھی کر دیا گیا۔ اپوزیشن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی جماعت کے کچھ ارکان کی جانب سے سابق وزرائے اعظم کے بارے میں متنازعہ بیانات دیے گئے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اپوزیشن کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے پارلیمنٹ کے وقار اور ایوان کی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے۔

آئینی ماہرین کے مطابق دستور ہند کے تحت اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران اسپیکر ایوان میں موجود رہ سکتے ہیں اور اپنا موقف بھی پیش کر سکتے ہیں، تاہم وہ اس اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے۔ اگر اس تحریک پر ووٹنگ ہوتی ہے تو اوم برلا عام رکن پارلیمنٹ کی طرح خفیہ طریقے سے اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔

پارلیمانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی اسپیکر کے خلاف اس نوعیت کی تحریک پیش کی گئی ہو۔ اس سے قبل 1954 میں پہلی لوک سبھا کے اسپیکر جی وی ماولنکر کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تھی۔ تاہم اس طرح کے واقعات پارلیمانی تاریخ میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی حال ہی میں ایک تقریب کے دوران اوم برلا کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک باوقار اور تجربہ کار پارلیمنٹیرین قرار دے چکے ہیں۔ اب سب کی نظریں پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث پر مرکوز ہیں جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی دلیلیں پیش کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے کی حمایت، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے طلباء کے دھرنے اور بھوک ہڑتال کو حق بجانب قرار دیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…

4 hours ago

Slap Case Delhi: ’یہ دیش تمہارے پِتا جی کا نہیں…‘ پرویش ورما پر برسے اروند کیجریوال، گرفتاری کا کیا مطالبہ

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…

5 hours ago

Iran IRGC Warns US: ایران کے آئی آر جی سی کا امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ، جنگ ہوئی تو تباہی بحر ہند تک پھیلے گی

ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…

5 hours ago