قومی

Lok Sabha Speaker Election 2024: آزادی کے بعد پہلی بارلوک سبھا اسپیکر کے لئے ہوگا الیکشن، اوم بڑلا اور کے سریش کے درمیان مقابلہ، کیا بلرام جاکھڑ کی برابری کرپائیں گے اوم برلا؟

Parliament Session 2024 Update: ملک کی تاریخ میں پہلی بار اسپیکرعہدے کے لئے الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ این ڈی اے کی طرف سے اوم بڑلا توانڈیا الائنس کی طرف سے کے سریش اسپیکرعہدے کے امیدوارہوں گے۔ دونوں لیڈران نے پرچہ نامزدگی داخل کردی ہے۔ ایسے میں کل اسپیکرعہدے کے لئے الیکشن ہوگا۔ اس سے پہلے اسپیکر عہدے کے لئے اتفاق رائے بنانے کی بات کی جارہی تھی۔ وہیں آج پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن بھی تھا۔ لوک سبھا اسپیکر کا الیکشن بدھ کو ہونا ہے۔ ملک میں یہ پہلا موقع ہوگا، جب اسپیکر عہدے کے لئے الیکشن ہوگا۔ ابھی تک برسراقتدار اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے اسپیکرکا انتخاب کیا جاتا تھا، لیکن اس بار یہ روایت ٹوٹتی ہوئی نظرآرہی ہے۔

اس سے پہلے پارلیمنٹ بلڈنگ میں وزیراعظم دفتر (پی ایم او) میں نریندر مودی اور اوم بڑلا کے درمیان میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ، بی جے پی صدر جے پی نڈا اور پارلیمانی امور کے وزیرکرن رجیجوبھی موجود رہے۔ وہیں ڈپٹی اسپیکرکے عہدے سے متعلق راہل گاندھی نے بی جے پی پرحملہ کیا۔

اپوزیشن کو راجناتھ سنگھ کے فون کا تھا انتظار

وہیں اس سے پہلے کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ آج اخبار میں لکھا ہے کہ وزیراعظم مودی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو حکومت کے ساتھ مثبت تعاون کرنا چاہئے۔ راجناتھ سنگھ نے ملیکا ارجن کھڑگے کو فون کیا اور انہوں نے ان سے اسپیکر کو حمایت دینے کو کہا۔ پورے اپوزیشن نے کہا کہ ہم اسپیکرکی حمایت کریں گے، لیکن روایت یہی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دیا جانا چاہئے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ ملیکا ارجن کھڑگے کو واپس بلائیں گے، لیکن انہوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے۔ وزیراعظم مودی اپوزیشن سے تعاون مانگ رہے ہیں، لیکن ہمارے لیڈرکی توہین کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ راجناتھ سنگھ نے جب اسپیکرعہدے پر اتفاق رائے کھ لئے فون کیا تو انہوں نے اسپیکر عہدے پراتفاق رائے بنانے کے لئے بات کی، لیکن ایک شرط بھی رکھ دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو ملنا چاہئے۔ حالانکہ اس پرابھی راجناتھ سنگھ کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بلرام جاکھڑ کے ریکارڈ کی کریں گے برابری

راجستھان کے کوٹا-بوندی لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمنٹ اوم بڑلا 2019 سے 2024 تک 17ویں لوک سبھا کے اسیپکر رہ چکے ہیں۔ اگر وہ لوک سبھا اسپیکر کے لئے ہونے والے الیکشن میں جیت درج کرتے ہیں تو وہ کانگریس کے بلرام جاکھڑ کی برابری کرلیں گے۔ واضح رہے کہ بلرام جاکھڑ کے بیٹے سنیل جاکھڑ ابھی بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں اور وہ پنجاب بی جے پی کے صدر بھی ہیں۔ کانگریس کے بلرام جاکھڑ 1980 سے 1985 اور 1985 سے 1989 تک مسلسل دو بار اسپیکر رہے تھے۔ وہیں این ڈی اے کی طرف سے بال یوگی اور پی اے سنگما دوباراسپیکربنے تھے، لیکن وہ اپنی میعاد پوری نہیں کرپائے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Amit Shah Bhopal Visit: بھوپال میں 5 روزہ ہائی ٹیک نمائش، 3 اکتوبر کو امت شاہ کریں گے افتتاح

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ 3 اکتوبر کو بھوپال میں نئے فوجداری قوانین…

42 minutes ago

LPU Phagwara Student Protest: پنجاب کی ایل پی یو میں پھر ہنگامہ، گیٹ بند کیے جانے پر بھڑکے طلبہ، کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…

51 minutes ago

PM Modi Mann Ki Baat: آملے نے بدلی قسمت! ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے کہا، پرتاپ گڑھ ’وکل فار لوکل‘ کی مثال

وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…

1 hour ago

Bihar News: سیلاب متاثرین کے درمیان پہنچے پپو یادو، انتظامیہ پر برہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دیا سخت بیان

پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…

1 hour ago