نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو کے درمیان پیر کو لوک سبھا میں نکسل واد پر بحث کے دوران دلچسپ مگر سنجیدہ لمحہ دیکھنے کو ملا، جب دھرمیندر یادو نے محدود وقت کی شکایت کی تو وزیر داخلہ امت شاہ نے مسکراتے ہوئے چیئر سے کہا، ’’آپ دیجیے نا وقت‘‘۔ اس پر ایوان میں ہلکی سی ہنسی گونج اٹھی اور ڈپٹی اسپیکر پینل کی رکن کماری شیلجہ نے انہیں مزید وقت دے دیا۔ لوک سبھا میں نکسل واد کے موضوع پر جاری بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے نکسل واد سے متاثرہ ریاستوں کے مسائل، قبائلی حقوق اور ترقیاتی پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے ہاتھ میں تجاویز سے بھرے کاغذات کا پلندہ اٹھائے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بہت سے نکات ہیں لیکن وقت کم ہے۔ اسی دوران امت شاہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور چیئر سے گزارش کی کہ انہیں مزید وقت دیا جائے، جس سے ایوان میں خوشگوار ماحول پیدا ہوگیا۔
اضافی وقت ملنے کے بعد دھرمیندر یادو نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اڈیشہ اور مہاراشٹر کے نکسل واد متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے پالیسی آیوگ اور 2023 کی سی اے جی رپورٹ میں واضح سفارشات موجود ہیں، جن پر سنجیدگی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ دھرمیندر یادو نے قبائلی حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آدیواسی ملک کے شہری ہیں اور انہیں عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند صنعت کاروں کے مفادات کے لیے قبائلیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ نکسل واد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ حالیہ برسوں میں اس میں کمی ضرور آئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے 2004 کے سون بھدر واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نکسلی حملے کے بعد بڑی فوجی کارروائی کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنایا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں نکسلیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور اعتماد سازی بھی مسئلے کے حل کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
دھرمیندر یادو نے نکسل واد متاثرہ علاقوں میں بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تیندوپتا اور معدنی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بچوں میں غذائی قلت، تعلیم چھوڑنے کی بڑھتی شرح اور زمین سے متعلق تنازعات بڑے چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف سیکورٹی فورسز کے ذریعے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں، بلکہ ترقی اور سماجی انصاف پر توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے نیم فوجی دستوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ کئی مواقع پر جوان اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، لیکن انہیں شہید کا درجہ نہیں ملتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اہلکاروں کو مناسب عزت اور سہولیات دی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں کی جانب سے دی گئی بعض سفارشات پر بھی عملدرآمد کیا جانا چاہیے۔
بحث کے دوران ایوان کا ماحول سنجیدہ ہونے کے باوجود دوستانہ رہا اور امت شاہ اور دھرمیندر یادو کے درمیان مسکراتی سیاست نے بحث کو مزید دلچسپ بنا دیا۔ اس موقع پر مختلف ارکان نے بھی تجاویز پیش کیں اور مسئلے کے جامع حل کی ضرورت پر زور دیا۔ دھرمیندر یادو نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو مقامی آبادی کے مفادات کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سماجی اثرات کا جائزہ لے کر پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ نکسل واد جیسے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور متاثرہ علاقوں میں ترقی اور امن کو یقینی بنایا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…