قومی

Like Bittu Tabahi, 19-year-old Kartik Sahani: بٹو تباہی کی طرح 19 سالہ کارتک سہانی نے اکیلے تمسا ندی کی صفائی کا بیڑا اٹھایا، 22 دن میں 10 کوئنٹل سے زیادہ کچرا کیا صاف،ویڈیو وائرل

نئی دہلی : اتر پردیش کے مئو میں بہنے والی تمسا ندی کبھی علاقے کے لوگوں کے لیے زندگی کا اہم ذریعہ تھی، لیکن وقت کے ساتھ اس میں بڑی تعداد میں کچرا جمع ہوتا چلا گیا۔ ندی میں بڑھتی آلودگی نہ صرف ماحول کے لیے مسئلہ بن رہی تھی، بلکہ اس سے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بھی پریشانی کا سامنا تھا۔ اسی ندی پر کارتک سہانی کے خاندان کے کھیت بھی انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں 19 سالہ کارتک نے شکایت کرنے کے بجائے خود کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔کارتک نے تمسا ندی کی صفائی کا بیڑا اٹھایا اور روزانہ کئی گھنٹے ندی میں اتر کر کچرا نکالنا شروع کردیا۔ وہ مسلسل 3 سے 4 گھنٹے تک ندی کی صفائی کرتا رہا۔ کارتک سہانی کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 22 دن میں اس لڑکے نے ندی سے 10 کوئنٹل سے زیادہ کچرا نکال دیا۔کارتک کی اس کوشش نے یہ پیغام دیا ہے کہ اپنے آس پاس کی گندگی اور ماحولیاتی مسائل کو دور کرنے کے لیے ہمیشہ کسی بڑی مہم یا بڑے گروپ کا انتظار ضروری نہیں۔ کئی مرتبہ تبدیلی کی شروعات ایک شخص کے چھوٹے سے قدم سے بھی ہو سکتی ہے۔

خاندان کے کھیتوں کا ندی سے تعلق

کارتک کے خاندان کے کھیت تمسا ندی پر منحصر ہیں۔ ندی میں بڑھتی ہوئی گندگی اور آلودگی کو دیکھ کر کارتک کو احساس ہوا کہ اگر اسے صاف نہیں کیا گیا تو اس کا اثر براہ راست علاقے اور ان کے خاندان کے کھیتوں پر پڑ سکتا ہے۔اسی احساس نے انہیں ندی کی صفائی کے لیے قدم اٹھانے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے روزانہ اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ صفائی کے لیے وقف کیا اور خود ندی میں اتر کر کچرا نکالا۔ ان کی یہ کوشش کسی ایک دن کی مہم نہیں تھی بلکہ مسلسل 22 دن تک جاری رہی۔

اب تالاب بنانے کا ہدف

تمسا ندی کی صفائی کے بعد کارتک سہانی نے اپنے علاقے کے لیے اگلا ہدف بھی طے کرلیا ہے۔ اب وہ اپنے علاقے میں ایک تالاب بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا مقصد مقامی سطح پر پانی کے وسائل کو بہتر بنانے اور ماحول کو صاف رکھنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔کارتک کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ شہری ذمہ داری صرف حکومت یا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ عام لوگ بھی اپنے ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے علاقے کی کسی ایک جگہ کو صاف کرنے کی پہل کرے اور دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہو کر آگے آئیں تو ایک چھوٹی کوشش بڑے پیمانے پر تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔تمسا ندی کی صفائی کے ذریعے کارتک نے یہی پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ تبدیلی کے لیے ہمیشہ ایک بڑی ٹیم کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی صرف ایک شخص کا پہلا قدم ہی کافی ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارے اپنے شہروں اور علاقوں میں ایسی کون سی جگہیں ہیں، جہاں صفائی کی ضرورت ہے اور جہاں تبدیلی کے لیے کوئی ایک شخص پہلا قدم اٹھا سکتا ہے؟

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Cockroach Janata Party: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو آشوتوش رنکا کا چیلنج، کہا-ابھی تو صرف شروعات ہوئی ہے

آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…

2 hours ago

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

10 hours ago

Ashok Singhal Birth Centenary: اشوک سنگھل کی جنم صدی پر گونجا ’رام نام‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں سے کیا اپیل

بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…

11 hours ago

Virat Kohli Century: ترواننت پورم میں ’کنگ کوہلی‘ کا طوفان! سنچری جڑ کر ویسٹ انڈیز کو کیا بے حال، ہندوستان نے 8 وکٹ سے ہرایا

 ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…

11 hours ago