نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو من کی بات کی 138ویں قسط میں ملک میں غذائی قلت کے خلاف جاری عوامی تحریک کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ستمبر کا مہینہ غذائی قلت کے خلاف لڑائی کو مضبوط بنانے اور صحت مند و بہتر غذائیت سے بھرپور ہندوستان کی تعمیر کے لیے وقف ہے۔ ملک بھر میں غذائی قلت سے نمٹنے اور غذائیت کے بارے میں بیداری بڑھانے کے لیے کئی حوصلہ افزا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پوشن ماہ کے دوران مختلف شعبوں سے وابستہ لوگ اور ادارے اس نیک مقصد کے لیے ایک ساتھ آتے ہیں۔ انہوں نے چھتیس گڑھ کی ہر گھر منگا-گھر گھر منگا مہم کا ذکر کیا، جس کے تحت لوگوں کو غذائیت سے بھرپور مورنگا کو اپنی خوراک میں شامل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ مورنگا کو غذائیت کا پاور ہاؤس بھی کہا جاتا ہے۔
گجرات میں موٹے اناج سے بنے پکوانوں کا مقابلہ
وزیر اعظم نے گجرات کی ایک منفرد پہل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ’وانگی اسپردھا یعنی موٹے اناج سے تیار کیے جانے والے پکوانوں کا مقابلہ شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے سستی اور غذائیت سے بھرپور مقامی خوراک کو فروغ دیا جا رہا ہے۔پی ایم مودی کے مطابق اب تک 2 لاکھ سے زیادہ افراد اس مقابلے میں حصہ لے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موٹے اناج کو فروغ دینے کی یہ پہل غذائیت کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔
مہاراشٹر میں اساتذہ، آنگن واڑی کارکن اور والدین متحد
وزیر اعظم نے مہاراشٹر کی کوششوں کو بھی قابل تعریف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اساتذہ، آنگن واڑی کارکن اور بچوں کے والدین مل کر بیداری مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔پی ایم مودی کے مطابق اسکول اور معاشرے کا یہ امتزاج غذائی قلت کے خلاف جاری لڑائی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
میزورم کی پوشن واٹیکا مہم کا ذکر
میزورم کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ اس سال وہاں لوگوں نے مل کر ’پوشن واٹیکا‘ یعنی غذائیت سے بھرپور باغیچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہل میزورم کے معاشرے کی شاندار روایت ’تالو-مڑ-یانا‘ کے مطابق ہے، جس کا مطلب بے لوث خدمت اور دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ آگے رہنا ہے۔ وزیر اعظم نے ایسے اقدامات کو قابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری ثقافتی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
پوشن ٹریکر سے ڈیجیٹل طور پر جڑے آنگن واڑی مراکز
وزیر اعظم نے آنگن واڑی مراکز سے وابستہ افراد کی کوششوں پر بھی فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے پوشن ابھیان کو نئی طاقت ملی ہے۔پی ایم مودی نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز اب ’پوشن ٹریکر سے ڈیجیٹل طور پر جڑ چکے ہیں اور تقریباً 9 کروڑ مستفید افراد اس میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ اس سے بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کی بہتر دیکھ بھال ممکن ہوئی ہے۔وزیر اعظم نے آخر میں ملک کے عوام سے اپیل کی کہ غذائی قلت کے خلاف اس لڑائی کو اسی طرح آگے بڑھایا جائے اور معاشرے کو مکمل طور پر غذائی قلت سے پاک بنانے کی کوشش کی جائے۔پوشن ماہ 2026 کے تحت ملک بھر میں آنگن واڑی مراکز، اسکولوں، پنچایتوں اور گھروں میں غذائیت، صحت اور بچوں کی نگہداشت سے متعلق مختلف سرگرمیاں بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
من کی بات‘ کی 138ویں قسط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج 27…
’سریلا سفر-30‘ کے ذریعے بالی ووڈ کی ان میلوڈیز کو یاد کیا جاتا ہے جو…
دھامرا پورٹ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کے لیے کیپٹیو رینیو ایبل پاور، تھرڈ…
اپنے امریکہ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ مجھے…
انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…
بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…