قومی

‘Lakhpati Didi’ Scheme: لکھ پتی دیدی اسکیم سے سنور رہی ہے دیہی خواتین کی زندگی، خود کفالت کی جانب بڑھ رہے قدم

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار اور خود کفیل بنانے کے مقصد سے شروع کی گئی لکھ پتی دیدی اسکیم کے مثبت نتائج نیمچ ضلع کے دیہات میں دکھائی دے رہے ہیں۔ قومی دیہی روزگار مشن (این آر ایل ایم) کے تحت قائم خود امدادی گروپوں سے وابستہ ہوکر دیہی خواتین اپنا روزگار شروع کر رہی ہیں اور خاندان کی مالی حالت مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ کبھی گھر کی چار دیواری اور گھریلو کام کاج تک محدود رہنے والی خواتین آج اپنے کاروبار چلا رہی ہیں اور دوسری خواتین کو بھی روزگار اور خود کفالت کی راہ دکھا رہی ہیں۔ نیمچ ضلع کے مختلف دیہات میں خواتین نے خود امدادی گروپوں کے ذریعے آر ایف، سی آئی ایف اور سی سی ایل کے تحت مالی مدد اور قرض حاصل کرکے آٹا چکی، پتّل دونا بنانے، ڈیری فارمنگ، سلائی، جنرل اسٹور اور کپڑوں کے کاروبار جیسے کام شروع کیے ہیں۔ ان سرگرمیوں سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور سماج میں ان کی پہچان بھی مضبوط ہوئی ہے۔ اسکیم سے وابستہ خواتین کا کہنا ہے کہ پہلے انہیں چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا تھا، لیکن اب وہ اپنی کمائی سے گھر چلانے اور خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔

راگنی کنور راجپوت نے کپڑوں کی دکان سے شروع کیا سفر

نیمچ ضلع کے گاؤں سروانیا بور کی رہنے والی راگنی کنور راجپوت کسان سہیلی خود امدادی گروپ سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قومی دیہی روزگار مشن سے جڑنے کے بعد انہیں آر ایف، سی آئی ایف اور سی سی ایل کے ذریعے مالی مدد ملی۔ ابتدا میں انہوں نے کپڑوں کی ایک چھوٹی دکان کھولی۔ جب اس کاروبار سے منافع ہونے لگا تو انہوں نے پتّل دونا بنانے والی مشین خریدی اور ایک نیا کاروبار شروع کردیا۔ مشین کی مدد سے آہستہ آہستہ ان کا کام بڑھتا گیا اور وہ خود کفیل بن گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے گاؤں میں دوسرے خود امدادی گروپ بنانے اور مزید خواتین کو اسکیم سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اس پہل سے گاؤں کی دوسری خواتین کی مالی حالت میں بھی بہتری آئی ہے۔

سرکاری اسکیموں کی معلومات سے ملی نئی راہ

راگنی نے بتایا کہ اسکیم سے جڑنے سے پہلے وہ ایک عام گھریلو خاتون تھیں۔ گاؤں میں رہنے کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنے اور روزگار کے مواقع تک پہنچنے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ قومی دیہی روزگار مشن سے وابستہ ہونے کے بعد انہیں سرکاری اسکیموں کی معلومات ملیں اور انہوں نے بتدریج اپنا کام شروع کیا۔ آج گاؤں میں ان کی الگ پہچان ہے اور وہ لکھ پتی دیدی اسکیم کے تحت سروے کا کام بھی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، ان کے گروپ کے لیے 6 لاکھ روپے تک کا قرض منظور ہوچکا ہے۔ راگنی نے خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے قومی دیہی روزگار مشن اور وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔

مونیکا کنور کی زندگی میں بھی آیا مثبت بدلاؤ

سروانیا بور کی ہی رہنے والی مونیکا کنور نرمدا خود امدادی گروپ سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گروپ سے جڑنے سے پہلے وہ گھریلو خاتون تھیں اور ان کے خاندان کی مالی حالت کمزور تھی۔ گروپ سے وابستہ ہونے کے بعد انہیں روزگار کا موقع ملا، جس سے گھر کے اخراجات پورے کرنے اور خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے میں مدد ملی۔ مونیکا نے قومی دیہی روزگار مشن اور وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گروپ سے جڑنے کے بعد ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق، پہلے مالی مشکلات زیادہ تھیں، لیکن اب حالات پہلے کے مقابلے کافی بہتر ہو گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Commonwealth Kabaddi Championship 2026: کامن ویلتھ کبڈی چیمپئن شپ 2026، بھارتی مرد و خواتین ٹیموں نے نائجیریا کو بری طرح دی شکست

بھارتی مردوں نے 50-23 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین ٹیم نے نائجیریا کو 38-10…

49 minutes ago