نئی دہلی: آبنائے ہرمز میں کویت کے پرچم والے خام تیل کے ٹینکر ایم ٹی کاظمہ تھری کو ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد اس میں سوار 5 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت ساحل پر پہنچا دیا گیا۔ عمان میں ہندوستانی سفارت خانے نے بتایا کہ اس نے عمانی حکام کے تعاون سے ریسکیو آپریشن کو مربوط کیا اور تمام 5 ہندوستانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا۔ سفارت خانے نے اس کارروائی میں مسلسل تعاون اور مدد کے لیے عمانی حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
کویتی پرچم کے تحت چل رہا تھا ٹینکر
ایم ٹی کاظمہ تھری ایک خام تیل کا ٹینکر ہے، جو کویت کے پرچم کے تحت چل رہا تھا۔ یہ جہاز ٹوگو کے دارالحکومت لومے کی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اس میں موجود ہندوستانی شہریوں کی سلامتی کے لیے فوری طور پر ریسکیو کارروائی شروع کی گئی۔عمان میں ہندوستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ مشن نے 5 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کو مربوط کیا۔ تمام 5 افراد کو محفوظ طریقے سے ساحل پر پہنچا دیا گیا۔
Earlier today, the Mission coordinated rescue of five Indian nationals on board the Kuwait-flagged tanker MT Kazimah III, struck by a projectile in the Strait of Hormuz.
All 5 Indian nationals have been shifted ashore safely.
We thank the Omani authorities for their continued…
— India in Oman (Embassy of India, Muscat) (@Indemb_Muscat) October 2, 2026
خلیج میں 4500 سے زائد ہندوستانی ملاح
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ہندوستان خلیج فارس اور آس پاس کے سمندری علاقوں میں کام کرنے والے ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے 29 ستمبر کو بتایا تھا کہ خطے میں مختلف تجارتی جہازوں پر 4500 سے زائد ہندوستانی ملاح کام کر رہے ہیں۔ان میں سے تقریباً 163 ہندوستانی ملاح 12 تجارتی جہازوں پر سوار ہیں۔ ان 12 جہازوں میں 6 ہندوستانی پرچم والے تجارتی جہاز ہیں، جبکہ 6 غیر ملکی پرچم والے جہاز ہندوستان کے لیے سامان لے کر جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق ہندوستانی حکام مقامی فریقوں کے ساتھ مل کر جہازوں کی نقل و حرکت اور ملاحوں کی سلامتی پر نظر رکھ رہے ہیں۔
خلیج سے بحیرہ احمر تک سمندری سلامتی کا چیلنج
آبنائے ہرمز کا یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیج فارس، بحیرہ احمر اور بحیرہ اسود سمیت کئی اہم سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کی سلامتی کو لے کر خدشات برقرار ہیں۔ حالیہ عرصے میں مختلف علاقوں میں تجارتی جہازوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کے دوران تجارتی جہازوں اور ملاحوں کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ خلیج، بحیرہ احمر اور بحیرہ اسود تک تجارتی جہازوں اور ملاحوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کئی ممالک کے ملاح اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ہندوستان نے 24 ممالک کے ساتھ بنائی بین الاقوامی پہل
ایس جے شنکر کے مطابق ہندوستان نے لائبیریا اور 23 دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر گروپ آف فرینڈز آن سیفٹی اینڈ سیکیورٹی آف شپنگ اینڈ سی فیررز نامی بین الاقوامی پہل میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس کا مقصد تجارتی سمندری راستوں اور ملاحوں کی حفاظت کے لیے عالمی حمایت کو مضبوط کرنا ہے۔ہندوستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی سے کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور اس کے لیے بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ جے شنکر نے خلیجی خطے میں فوری طور پر تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل بھی کی تھی، تاکہ شہری عملے کی سلامتی کے ساتھ توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کا سلسلہ بھی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
فائنل کا آغاز کم کم موہود کے لیے آسان نہیں تھا۔ انہیں پہلے سیٹ میں…
دہلی-این سی آر اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ دنوں ہوئی بارش کے بعد…
’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی…
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…