گجرات کے کچھ ضلع کے نخترانہ سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں کے ارچنا سینٹ زیویرز انگریزی میڈیم اسکول کی ایک ٹیچر پر طالبہ کے ساتھ بدتمیزی اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کلاس 6 کی طالبہ کے پاس ہنومان چالیسہ کی کتاب دیکھ کر ٹیچر ناراض ہو گئی۔ انہوں نے طالبہ کے ہاتھ سے کتاب چھین کر زمین پر پھینک دی اور مبینہ طور پر توہین آمیز زبان استعمال کی۔ یہ پورا واقعہ اسکول کے سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ ہو گیا، جس کے بعد معاملہ منظر عام پر آ گیا۔
تنظیموں کا احتجاج
واقعے کی اطلاع ملتے ہی وشو ہندو پرشد (VHP)، ہندو یوا سنگھ، گورکشہ دَل اور اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) کے کارکن بڑی تعداد میں اسکول پہنچ گئے۔ انہوں نے اسکول کے احاطے میں ہنومان چالیسہ کا ورد کیا اور ‘جے شری رام’ کے نعرے لگائے۔ تنظیموں کے عہدیداروں نے اسکول انتظامیہ کو خبردار کیا کہ ہندو ثقافت کی توہین اب برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر مستقبل میں ایسے واقعات دہرائے گئے تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔
اسکول انتظامیہ کی کارروائی
تنازع بڑھنے پر اسکول انتظامیہ نے فوری اقدام کرتے ہوئے ملزمہ ٹیچر سے استعفیٰ لے لیا۔ ساتھ ہی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس تحفظ کی بھی درخواست کی گئی۔ ہندو تنظیموں نے ضلع تعلیمی افسر اور تعلیم کے وزیر کو تحریری درخواست دے کر استاد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی مانگ کی ہے۔
پرانے تنازعات
ارچنا سینٹ زیویرز اسکول پہلے بھی تنازعات میں رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہاں ایک استاد پر والدین سے جبراً رقم وصول کرنے کا الزام لگا تھا، جو اب تک مکمل طور پر حل نہیں ہوا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پائلٹوں کی تنظیم نے ملک بھر میں ہیلی کاپٹر آپریشنز کا جامع جائزہ لینے پر…
گجرات کے وڈودرا کی فنکارہ شاہینہ گاندھی نے قدرتی عقیق کے پتھروں سے قومی یومِ…
پارٹی مخالف سرگرمیوں اور ایم ایل سی انتخابات میں باغیانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات…
یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر)…
پروفیسر جیفری سیکس نے اڈانی گروپ کو ہندوستان میں تبدیلی اور ترقی کا ایک اہم…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بی جے پی کی ملک گیر مہم ’لوک تنتر بچاؤ،…