کولکاتا میں پولیس اور بی جے پی کے درمیان جھڑپ ہوئی۔
ساؤتھ کلکتہ لا کالج میں ایک طالبہ کے ساتھ ہوئی اجتماعی آبروریزی کے حادثہ کے خلاف ہفتہ کے روزکولکاتا کی سڑکوں پرزبردست سیاسی احتجاج دیکھنے کوملا۔ کانگریس چھاترپریشد اوربی جے پی نے ریاستی حکومت اورپولیس انتظامیہ کے خلاف محاذ کھول دیا۔ حادثہ کی عدالتی جانچ کے ساتھ دونوں پارٹیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب، پولیس نے جانچ تیز کرتے ہوئے چاررکنی اسپیشل انوسٹی گیشن (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
کولکاتا میں قصبہ تھانے کے سامنے کانگریس چھاترپریشد کے حامیوں نے احتجاج کیا۔ انہوں نے عدالتی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اس سنگین جرم کودبانے کی کوشش کررہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے تحفظ کی صورتحال بنگال میں مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔
پولیس اور بی جے پی کارکنان میں جھڑپ
دوسری جانب، بی جے پی نے بھی ہفتہ کے روزاس موضوع سے متعلق سڑکوں پراترنے کا اعلان کیا۔ پارٹی کے ریاستی صدرسوکانت مجومدارکی قیادت میں بی جے پی کارکنان نے گریا ہاٹ چوراہے پراحتجاج کیا۔ احتجاج دوپہرتقریباً 12 بجے شروع ہوا اورکچھ ہی دیرمیں گریا ہاٹ کا مین چوراہا ٹھپ ہوگیا۔ بی جے پی کارکنان نے قصبہ پولیس اسٹیشن کے سامنے نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرہ کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب بی جے پی لیڈر سوکانت مجومدار، جگناتھ چٹرجی اور انوپم بھٹا چاریہ نے پولیس بیریکیڈس کو توڑتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ بغیراجازت کے کسی بھی عوامی جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسے لے کرپولیس اور بی جے پی کارکنان آپس میں بھڑگئے۔ پولیس افسران نے بی جے پی صدرسوکانت مجومدارکوروکنے کی کوشش کی اورانہیں گھیرلیا۔ جب ان سے احتجاج روکنے کوکہا گیا، تومجومدارنے سوال کیا، ”یہاں دفعہ 144 نافذ نہیں ہے، توہمیں کیوں روکا جا رہا ہے؟“ اس پرایک پولیس افسرنے جواب دیا ”کوئی اجازت نہیں ہے اورآپ نے بیریکیڈ توڑا ہے، اس لئے آپ کوگرفتارکیا جائے گا۔“
جانچ کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل
اس درمیان، کولکاتا پولیس نے اس حساس معاملے کی جانچ کے لئے ایک پانچ رکنی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرآف پولیس ایس ایس ڈی پردیپ گھوشال ایس آئی ٹی کی قیادت کررہے ہیں۔ ایس آئی ٹی کوجلد ازجلد معاملے کی تہہ تک پہنچنے اورملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کولکاتا لا کالج میں طالبہ کے ساتھ ہوئی آبروریزی سانحہ اب صرف لا اینڈ آرڈرکا موضوع نہیں رہ گیا، بلکہ اس کا سیاسی رنگ بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف جانچ ایجنسیاں اورفورنسک ٹیم ثبوت جمع کرنے میں مصروف ہے۔ وہیں دوسری طرف سیاسی پارٹیاں اس حادثہ سے متعلق ریاستی حکومت کے کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ آئندہ سال اسمبلی الیکشن کے مد نظر یہ معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…