نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کی کارروائی مسلسل متاثر ہونے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آکر اپوزیشن کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو پارلیمنٹ میں آکر ارکان کے خدشات سننے چاہئیں، نہ کہ کارروائی سے دور رہیں۔ انہوں نے کہا ’’وہ پارلیمنٹ میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب وزیراعظم خود اندر نہیں آ رہے، جب وزیر داخلہ نہیں آ رہے اور کہتے ہیں کہ ’میں اندر تھا، میں سن رہا تھا‘، تو کیا آپ یہاں اپنے کمرے میں بیٹھنے اور سننے آتے ہیں؟ ایوان میں آئیں اور ہماری بات سنیں۔‘‘
حکومت پر جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام
کانگریس صدر نے حکومت پر جمہوریت کو کمزور کرنے اور پارلیمنٹ کے ارکان کا حوصلہ پست کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ کھڑگے نے کہا کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ اس کے سامنے کچھ نہیں ہے اور وہ سب کچھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اس ’’تکبر‘‘ کو توڑ دیں گے۔ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کھڑگے کی ریلی کے بعد مبینہ طور پر منعقد کیے گئے ’شدھی کرن‘ ہون پر بھی انہوں نے سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ملک کو تقسیم کرتے ہیں اور اگر بی جے پی کے نظریات پر یقین رکھنے والے لوگ مذہب کے نام پر ’شدھی کرن‘ کرتے ہیں تو یہ ملک کو نقصان پہنچانے والی سوچ ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ وہ اس رویے کی مذمت کرتے ہیں اور ’شدھی کرن‘ میں شامل تمام افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے اور کارروائی کی جانی چاہیے۔
’وندے ماترم‘ کے بعد لوک سبھا غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی
کھڑگے کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب لوک سبھا کے مانسون اجلاس کے آخری دن ’وندے ماترم‘ کی روایتی پیش کش کے فوراً بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔ اپوزیشن کے مسلسل احتجاج اور زوردار نعرے بازی کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر رہی۔ اجلاس کا اختتام حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان پارلیمنٹ کمپلیکس کے مکر دوار کی سیڑھیوں پر شدید سیاسی کشیدگی اور جوابی مظاہروں کے درمیان ہوا۔
بی جے پی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نعرے بازی
بی جے پی نے جھارکھنڈ میں جاری احتجاج پر کانگریس کی جانب سے مبینہ طور پر توجہ نہ دینے کے معاملے پر قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا کی قیادت میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھی متنازع نعرے بازی کی گئی۔ احتجاج کے دوران ایک کھلونا بندر بھی دکھایا گیا اور ’’56 انچ کا چھوٹا بندر، جلدی آؤ سدن کے اندر‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…