ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث ایران میں پھنسے 1300 سے زائد کشمیری طلبہ کی جان کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ طلبہ کے اہل خانہ اور جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (JKSA) نے حکومت سے فوری مداخلت اور انخلا کی اپیل کی ہے۔ فضائی حملوں اور بڑھتے تناؤ کے درمیان طلبہ خوفزدہ اور بے بس محسوس کر رہے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لگاتار حملے ہو رہے ہیں۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں کشمیری طلبہ کے لیے فوری اقدام کرتے ہوئے ان کو وہاں سے نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایران میں پھنسے بھارتی طلبہ کے اہل خانہ نے حکومت سے انخلا کی اپیل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی سلامتی اور خیریت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فی الحال 1300 سے زائد کشمیری طلبہ ایران میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور وہاں کے حالات سے وہ خوفزدہ ہیں۔
وزیراعظم کو خط، خدشات کا اظہار
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (JKSA) نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھتے ہوئے کہا:
“ہم JKSA کی طرف سے، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تناؤ کے نتیجے میں ایران میں تعلیم حاصل کر رہے سینکڑوں کشمیری طلبہ کی سنگین صورتحال کے بارے میں آپ کو گہری فکرمندی اور تشویش کے ساتھ خط لکھ رہے ہیں۔ حال ہی میں ایران کے جوہری انفراسٹرکچر پر اسرائیل کے فضائی حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی ڈرون و میزائل کارروائیوں نے پورے خطے کو مکمل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔”
مکمل طور پر بے یار و مددگار، جان کو خطرہ لاحق
خط میں مزید کہا گیا ہے: “یہ غیر مستحکم سلامتی کی صورتحال ہزاروں بھارتی طلبہ کو غیر محفوظ بنا چکی ہے، جن میں اکثریت کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ یہ طلبہ ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے ایران گئے تھے، مگر اب وہ خود کو ایک فعال جنگی علاقے کے درمیان پاتے ہیں جہاں ان کی جان کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔”
JKSA کے مطابق: “ہمیں اطلاع ملی ہے کہ ان میں سے کئی طلبہ ایسے کالجوں اور جامعات میں زیر تعلیم ہیں جو اہم عسکری مراکز اور اسٹریٹیجک مقامات کے قریب واقع ہیں۔ وہ فضائی حملے، سائرن اور اردگرد بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کی آوازیں مسلسل سن رہے ہیں۔ صورتحال کل رات سے تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ کچھ طلبہ ایسے شہروں میں بھی ہیں جہاں اسرائیلی فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ طلبہ شدید خوفزدہ اور بالکل بے بس ہیں۔”
یہ بھارتی بچے ہیں، ان کی مدد کی جانی چاہیے
مزید بتایا گیا کہ تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (ہجّت دوست ڈورمیٹری) میں بین الاقوامی طلبہ کے ہاسٹل کے قریب اتوار کی شام ایک حملہ ہوا، جس میں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو بھارتی طلبہ زخمی ہوئے۔ خوش قسمتی سے دونوں کی حالت مستحکم ہے اور وہ اس وقت رامسر کے راستے میں ہیں، کیونکہ یونیورسٹی نے ان کی سلامتی کے پیش نظر انہیں ایک قریبی دیہی علاقے میں منتقل کیا ہے۔ JKSA نے کہا کہ ان کے ساتھیوں سے رابطہ کیا گیا ہے جنہوں نے دونوں طلبہ کی حالت مستحکم ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم وہ ڈرے ہوئے اور شدید کمزوری محسوس کر رہے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی سلامتی اور بھلائی کو لے کر شدید پریشان ہیں۔ کئی طلبہ مسلسل نفسیاتی دباؤ اور غیر محفوظ ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے فضائی حملوں کے سائرن سننے اور اپنے علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ بعض ایسے شہروں میں بھی مقیم ہیں جہاں فضائی حملے پہلے ہی ہو چکے ہیں۔
ماں کی اپیل: میری بیٹی صدمے میں ہے
اسی دوران ایک خاتون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: “میری بیٹی کالج کے تیسرے سال میں ہے۔ وہ اس صورتحال سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر اب وہ صدمے میں ہے اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ مقامی لوگ بھی علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ وہ سفارت خانے سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انخلا کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ وہ بھارتی بچے ہیں اور ان کی مدد ہونی چاہیے۔”
طلبہ کو جلد نکالا جائے
ایران میں پھنسے بھارتی طلبہ کے حوالے سے آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا: “میرا ماننا ہے کہ وزارت خارجہ کو وہاں موجود بھارتی طلبہ اور دیگر شہریوں کی مکمل معلومات ہونی چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ ہماری حکومت ان کی سلامتی اور فوری انخلا کے لیے جلد مناسب اقدام کرے گی۔”
بھارت ایکسپریس اردو۔
وتھیا نے ایشین گیمز میں بھارت کے لیے ایک گولڈ، ایک سلور اور ایک برونز…
زیادہ تر لوگ سرکاری ملازمت کو صرف ملازمت کا تحفظ، مستقل آمدنی اور دیگر سہولتوں…
روپی سورین کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں میں غم کی لہر، صدر دروپدی…
نئی دہلی میں ’سیوا سنکلپ - راشٹر نرمان کے 25 سال‘ تقریب کا انعقاد، خدمت،…
ایشین گیمز 2026 میں کانسے کا تمغہ جیتنے والے ہندوستانی باکسر کپل پوکھریا کا اگلا…
نوبیل امن انعام 2026 کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار…