نئی دہلی: کرن اڈانی نے کہا ہے کہ اڈانی گروپ تیز رفتار توسیع کے دوران قومی انفراسٹرکچر ترجیحات، دفاع سے منسلک ایکو سسٹمز اور داخلی گورننس کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ وہ آل انڈیا مینجمنٹ ایسوسی ایشن (اے آئی ایم اے) کی پلیٹینم جوبلی تقریبات کے موقع پر منعقدہ گفتگو میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون (اے پی ایس ای زیڈ) کے منیجنگ ڈائریکٹر اور اڈانی سیمنٹ کے ڈائریکٹر کرن اڈانی نے گروپ کی بدلتی ہوئی سرمایہ کاری حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری تین بنیادی ستونوں پر مرکوز رہے گی: توانائی، لاجسٹکس اور بھارت کی ترقی کے لیے اہم بنیادی مواد۔
توانائی، لاجسٹکس اور دفاعی انڈیجینائزیشن پر زور
کرن اڈانی کے مطابق توانائی انفراسٹرکچرجس میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن، پاور ٹرانسمیشن نیٹ ورکس اور ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثے جیسے ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں طویل مدتی توجہ کا مرکز رہیں گے۔ دفاعی شعبے میں شرکت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انڈیجینائزیشن ایک اسٹریٹجک قومی ہدف ہے۔ انہوں نے مینٹیننس، ریپیئر اینڈ اوورہال (ایم آر او) صلاحیتوں کی مثال دیتے ہوئے برازیل کی فضائی کمپنی ایمبریئر کے ساتھ حالیہ شراکت داری کا حوالہ دیا، جو مقامی مینوفیکچرنگ کو عالمی سپلائی چین سے جوڑنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
انتظامی ڈھانچے میں سادگی اور رفتار کی بحالی
انہوں نے تسلیم کیا کہ تیز رفتار توسیع کے باعث انتظامی پرتوں میں اضافہ ہوا، جس سے فیصلہ سازی کی رفتار متاثر ہوئی۔ اب ترجیح یہ ہے کہ ڈھانچے کی پیچیدگی کم کر کے رفتار اور اسکیل ایبلٹی بحال کی جائے۔ گروپ اپنی اوسط ملازم عمر، جو اس وقت 38 سال ہے، کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو تیزی سے اپنایا جا سکے۔ اس ہفتے اعلان کردہ 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری جس کا مقصد 2036 تک قابل تجدید توانائی سے چلنے والا انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے، گروپ کی طویل مدتی اے آئی اور ڈیجیٹل حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔ خواتین کی شمولیت 2 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہو چکی ہے، جبکہ تقریباً 80 فیصد قیادت اندرون ادارہ تیار کی گئی ہے۔ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، سیمنٹ اور کان کنی کے شعبوں کے درمیان اندرونی نقل و حرکت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
گورننس، شفافیت اور ساکھ
ریگولیٹری جانچ اور میڈیا کوریج کے تناظر میں گورننس اور ساکھ سے متعلق سوالات کے جواب میں کرن اڈانی نے کہا کہ مضبوط آپریٹنگ بنیادیں اور شفاف مواصلات ہی استحکام کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی انفراسٹرکچر پورٹ فولیو بار بار آنے والی آمدنی کی وجہ سے ایک ساختی طاقت رکھتا ہے، تاہم ماضی میں ارتکاز کے خطرات بھی موجود تھے۔ ادارہ جاتی مضبوطی اور وسیع شراکت داریوں کے ذریعے گورننس فریم ورک کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔
پائیداری اور فارمولا ون کی بحالی میں دلچسپی
انہوں نے اس تصور کو مسترد کیا کہ ماحولیاتی اقدامات منافع کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق بندرگاہی آپریشنز میں اس سال ڈیزل ٹرک فلیٹس کو گرین فیول متبادلات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ کرن اڈانی نے بھارت میں فارمولا ون ریسنگ کی بحالی میں دلچسپی کا اعادہ بھی کیا۔ بدھ انٹرنیشنل سرکٹ سمیت جے پی سے متعلق اثاثوں کے حصول کے بعد، انہوں نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ بحالی کا مقصد عالمی معیار قائم کرنا ہوگا۔ گفتگو کے دوران ان کے ساتھ سنیل کانت منجل، چیئرمین ہیرو انٹرپرائز اور اے آئی ایم اے کے سابق صدر موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…