قومی

Bridge Crisis: آزادی کے 78 برس بعد بھی لوگ بانس کے پل پر چلنے پر مجبور، کانپور دیہات میں ہزاروں زندگیاں خطرے میں

ملک بھر میں ہائی ویز اور ایکسپریس ویز کا جال بچھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن کانپور دیہات کا ایک گاؤں آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ رسول آباد ترقیاتی بلاک کی گرام پنچایت مرزاپور لکوتھیا کے بندرہا گاؤں میں پانڈو ندی پر مستقل پل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی باشندے روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر آمد و رفت کرنے پر مجبور ہیں۔

عارضی پل پر انحصار

دیہاتیوں نے کئی برس قبل آر سی سی کے ستونوں پر لکڑی اور بانس رکھ کر ایک عارضی پل تعمیر کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ پل انتہائی خستہ حال ہو چکا ہے، مگر انتظامیہ اور عوامی نمائندوں نے مستقل پل کی تعمیر کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ بندرہا، بکیٹھیا، لکوتھیا، کولا اور پچھیان پوروا سمیت درجنوں دیہات کے ہزاروں افراد اسی پل پر انحصار کرتے ہیں۔

جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس پل کا استعمال نہ کریں تو انہیں تقریباً 15 کلومیٹر کا اضافی چکر لگا کر جانا پڑتا ہے۔ اسی مجبوری کے باعث لوگ روزانہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس خستہ حال پل سے گزرتے ہیں۔ برسات کے موسم میں پل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ مشکلات اسکول جانے والے بچوں کو پیش آتی ہیں، جنہیں والدین روزانہ پل تک چھوڑنے اور واپس لینے آتے ہیں۔ کئی مواقع پر والدین بچوں کے بستے خود اٹھا کر انہیں بحفاظت پل پار کراتے ہیں۔

خواتین اور بزرگوں کو شدید مشکلات

حاملہ خواتین، بزرگوں اور مریضوں کے لیے یہ راستہ کسی آزمائش سے کم نہیں۔ ہنگامی حالات میں اسپتال پہنچنے میں تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ کسان بھی اپنی فصلیں منڈی تک پہنچانے کے لیے اسی پل پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں ہر روز خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انتخابی وعدوں پر سوالات

دیہاتیوں کا الزام ہے کہ انتخابات کے دوران رہنما بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، لیکن کامیابی کے بعد گاؤں کے مسائل کو فراموش کر دیتے ہیں۔ آزادی کے 78 برس گزر جانے کے باوجود یہ علاقہ آج بھی ایک مستقل پل کی تعمیر کا منتظر ہے۔

دیہاتیوں کا مطالبہ

مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پانڈو ندی پر جلد از جلد ایک مضبوط اور مستقل پل تعمیر کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک یہ پل تعمیر نہیں ہوتا، تب تک ہزاروں افراد کی زندگیاں روزانہ خطرے میں رہیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Bhartiya Patrakarita Mahotsav: بھارت ایکسپریس کی اہم شراکت سے اندور میں صحافت کا مہاکمبھ اختتام پذیر

اندور میں اسٹیٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ اٹھارویں ’انڈین جرنلزم فیسٹیول‘…

1 hour ago

Adani Group: اڈانی گروپ اور کچھ یونیورسٹی نے گرین انرجی سینٹر آف ایکسیلنس کا کیا آغاز، ہر سال 10 ہزار سے زائد طلبہ کو ملے گی تربیت

اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…

2 hours ago