قومی

Kamal Haasan ready to enter Rajya Sabha: ڈی ایم کے کی حمایت سے راجیہ سبھا میں انٹری کو تیار کمل ہاسن، سی ایم اسٹالن نے امیدواروں کا کیا اعلان

نئی دہلی: تمل ناڈو کی حکمراں ڈی ایم کے نے منگل کے روز 19 جون کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ چار میں سے تین ان کی پارٹی کے کھاتے میں اور ایک (اس کے کوٹے سے) ایم این ایم کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم این ایم اداکار سے سیاستدان بنے کمل ہاسن کی پارٹی کا نام ہے۔ چیف منسٹر اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے اس کا اعلان کیا ہے۔

اعلان کے مطابق، تمل ناڈو سے انتخاب کے لیے راجیہ سبھا کی چار نشستوں میں سے، ڈی ایم کے تین پر مقابلہ کرے گی، جب کہ چوتھی نشست مکل ندھی میئم (ایم این ایم) کو دی گئی ہے، جو دونوں جماعتوں کے درمیان موجودہ انتخابی معاہدے کا حصہ ہے۔ ایم این ایم کے بانی صدر اور اداکار سے سیاستدان بنے کمل ہاسن کو پارٹی نے راجیہ سبھا کے لیے امیدوار بنایا ہے۔

ڈی ایم کے کی طرف سے اعلان کردہ امیدواروں کے نام اس طرح ہیں – پی ولسن، سابق مرکزی وزیر ایس آر سیولنگم اور رقیہ ملک۔ رقیہ ایک شاعرہ ہیں اور ان کا تخلص (عرفی نام) کَوِگنر سلمہ ہے۔

بی ایس سی اور قانون کی ڈگری کے ساتھ، پی ولسن اس وقت راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ آف انڈیا میں معروف وکیل ہیں۔ انہوں نے کئی اعلیٰ درجے کے قانونی معاملات میں ریاست کی نمائندگی کی ہے اور انہیں ڈی ایم کے کی معتبر قانونی آواز سمجھا جاتا ہے۔

ایس آر سیولنگم ڈی ایم کے کے ایک سینئر لیڈر ہیں اور اس سے قبل صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔ ان کی نامزدگی ایوان بالا میں انتظامی تجربے کے ساتھ قانونی مہارت کو متوازن کرنے کی پارٹی کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

کئی ادبی ایوارڈز سے سرفراز رقیہ ملک عرف کَوِگنر سلمہ عصری تمل ادب کا ایک بڑا نام ہے۔ ملک کو اپنی نظموں اور ناولوں کے لیے جانا جاتا ہے، جو صنف، شناخت اور سماجی انصاف کے موضوعات سے متعلق ہیں۔ فہرست میں ان کی شمولیت ڈی ایم کے کی ثقافتی نمائندگی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

ایم این ایم کو سیٹ الاٹ کرنے کے ڈی ایم کے کے فیصلے کو اتحاد کو مضبوط کرنے اور قومی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ، کمل ہاسن اپنا پارلیمانی آغاز کرنے والے ہیں اور یہ ان کے سیاسی سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

راجیہ سبھا کے انتخابات محض رسمی ہیں کیونکہ حکمراں اتحاد کے پاس تمل ناڈو اسمبلی میں چاروں امیدواروں کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

3 hours ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

5 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

5 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

5 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

6 hours ago