نئی دہلی : ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے اپنے خلاف جاری تحقیقات اور پارٹی کے اندر اٹھنے والی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈر کو اپنی رائے دینے کا مکمل حق حاصل ہے اور وہ ان کے خیالات کا احترام کرتے ہیں۔ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ جو سینئر رہنما ان پر تنقید کر رہے ہیں، انہیں پارٹی کے اندر اپنی بات رکھنے کا پورا اختیار ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کلیان بنرجی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے انہیں جانتے ہیں اور ہمیشہ ان کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ اس لیے ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔قابل ذکر ہے کہ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے گزشتہ روز ابھیشیک بنرجی کو “بہت گھمنڈی” قرار دیا تھا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں اس بیان پر کافی بحث شروع ہو گئی تھی۔
اپنے خلاف جاری تحقیقات کے حوالے سے ابھیشیک بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں انہیں مختلف معاملات میں پھنسانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بدل چکی ہے اور ان کے خلاف ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، تاہم وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ابھیشیک بنرجی نے 2011 اور 2026 کے سیاسی ماحول کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کے مطابق رات آٹھ بجے کے بعد سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں اور بی جے پی اپنی انتخابی کامیابی کے جلوس تک نکالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔انہوں نے بی جے پی پر انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل بی جے پی “انّاپورنا بھنڈار یوجنا” کی بات کر رہی تھی، لیکن انتخابات کے بعد ریاست میں “بلڈوزر سیاست” دیکھنے کو مل رہی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کیے گئے سمن کے بارے میں ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ تفتیش میں مکمل تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے تک افسران کے سوالات کے جواب دیتے رہے اور عدالت کی جانب سے مقررہ وقت سے پہلے ہی بھوانی بھون پہنچ گئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ 14 جون کو کولکاتا میں موجود رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے پیش ہوں گے۔ ان کے مطابق انہوں نے کبھی بھی کسی تحقیقات سے بچنے کی کوشش نہیں کی، خواہ معاملہ مرکزی ایجنسی کا ہو یا ریاستی ادارے کا۔اپنے انتخابی بیان پر درج مقدمے کے حوالے سے ابھیشیک بنرجی نے سوال اٹھایا کہ اگر ان کے بیان کی بنیاد پر ان سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے تو اسی دوران دیے گئے دیگر سیاسی بیانات پر بھی یکساں کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے معاملات میں سب کے لیے ایک ہی معیار ہونا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…