قومی

Kala Sankul Seminar: ”کلا سنکل“ کی سیمینار میں ڈرامہ نگاری میں بھارتی ثقافتی اقدار کے تحفظ کے چیلنجز پر بامعنی گفتگو

نئی دہلی: سنسکار بھارتی کے زیر اہتمام ”کلا سنکل“ کی ماہانہ سیمینار کا کامیاب انعقاد 33 دین دیال اپادھیائے مارگ، نئی دہلی میں عمل میں آیا، جس میں ”ڈرامہ نگاری میں بھارتی ثقافتی اقدار کو برقرار رکھنے کے چیلنجز“ کے موضوع پر تفصیلی اور بامعنی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس علمی نشست میں ملک کے معروف فنکاروں، ادیبوں اور تھیٹر آرٹسٹس نے شرکت کی اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس موقع پر پروگرام کے مہمان خصوصی اور مقرر سینئر تھیٹر آرٹسٹ سمن کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی تھیٹر کی روایت نہایت قدیم اور مضبوط ہے، جو ملک کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی اثرات اور بدلتے رجحانات کے سبب ڈرامہ نگاری میں مقامی اقدار کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، تاہم اس ذمہ داری سے فرار ممکن نہیں۔ ان کے مطابق فنکاروں اور مصنفین کو چاہیے کہ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے بھارتی تہذیب اور ثقافت کو زندہ رکھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوک روایتوں، عوامی کہانیوں اور معاشرتی اقدار سے تحریک لے کر ڈرامہ نگاری کو زیادہ مؤثر اور بامقصد بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر تخلیق کار اپنی جڑوں سے جڑے رہیں تو وہ نہ صرف معیاری ادب تخلیق کر سکتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی ثقافت سے روشناس کرا سکتے ہیں۔ سیمینار میں شریک دیگر مقررین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کے ڈرامہ نگاروں کو جدیدیت کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی شناخت کو بھی مقدم رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی اثرات کے بڑھتے ہوئے دائرے کے باوجود مقامی اقدار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ادب و فن کے ذریعے ان کا تحفظ ناگزیر ہے۔

پروگرام میں نظامت کے فرائض معروف اینکر بھارتی ڈانگ نے انجام دیے، جبکہ مبصر اور سماجی مفکر ورون سونی نے بطور ماڈریٹر گفتگو کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا۔ دونوں کی پیشہ ورانہ مہارت نے پروگرام کو منظم اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ این ایس ڈی ریپرٹری چیف راجیش سنگھ، اڈیسی ڈانسر ڈاکٹر چندنا راؤل، کتھک رقاصہ پرتیبھا، آکاش ملک، ستار بجانے والے اوماشنکر، سینئر صحافی انیتا چودھری، رینو کھنتوال، تھیٹر آرٹسٹ بھوپیش جوشی، دیواکر دوبے، پروین اور دیگر کئی شخصیات خصوصی طور پر پروگرام میں موجود تھیں۔

پروگرام کے اختتام پر رقاصہ شروتی سنہا نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علمی نشستیں نہ صرف فنونِ لطیفہ کو فروغ دیتی ہیں بلکہ نئی نسل میں ثقافتی شعور بیدار کرنے کا بھی ذریعہ بنتی ہیں۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں گریما رانی، سنیہا مکھرجی، ساکشی سنگھ، پرینکا پوڈیل، دیپیکا ٹھاکر اور گلوکارہ سواتی شرما سمیت کئی نوجوان فنکاروں اور محققین کا تعاون قابلِ ستائش رہا۔ منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسی نشستوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ فن، ادب اور ثقافت کے میدان میں مثبت مکالمہ فروغ پا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: ڈیجیٹل سہولتوں سے گرین انرجی تک، وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کے سامنے گنوائیں بھارت کی کامیابیاں

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹیکنالوجی کی…

6 minutes ago

PM Modi On Digital India: ریڑھی والے سے لے کر کار شوروم تک، سب کے لیے ایک جیسا پیمنٹ سسٹم! پی ایم مودی نے دنیا کو دکھائی ہندوستان کی ڈیجیٹل طاقت

بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام،…

3 hours ago

INDIA Bloc: سڑک سے سپریم کورٹ تک لڑائی، نومبر میں اپوزیشن کی بڑی ریلی کی تیاری! دہلی سے بنگال تک تحریک پھیلانے کی حکمت عملی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں…

3 hours ago